أكلاتٌ يقمن صلبه :چند لقمے جو کمر کو سیدھا رکھیں بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُاحادیث رسول ﷺ میں کم کھانے کی تعریف اور زیادہ کھانے کے مذمت 1۔ رسول ﷺ نے فرمایا: "آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا، آدمی کے لیے کافی ہے کہ وہ اتنے لقمے کھائے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں، لیکن اگر آدمی پر اس کا نفس غالب آ جائے، تو پھر ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے، اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھے " اس حدیث میں "اکلات" کا لفظ استعمال ہوا ہے جو عربی اسلوب کے مطابق تقلیل یا چھوٹے ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔ گویا انسان کو چاہئے کی تھوڑے اور چھوٹے لقمے لے۔ امام نووی رحمه الله نے اس حدیث کو چالیس جامع ترین اور اسلام کے قواعد کبری پر مشتمل احادیث میں ذکر ہوا۔ معلوم ہوا کہ اہل علم کے ہاں کم کھانا اسلام کے قواعد میں سے ایک عظیم قاعدہ ہے۔ امام ابن حبان رحمه الله نے اس حدیث کو ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: "انسان کا اپنی جائز حاجت سے زیادہ کھانے پر خدشہ ہے کہ وہ آخرت میں حرام کھانے والوں میں شامل ہو۔" یعنی ممکن ہے کہ کھانے کی شہوت اس قدر غالب آ جائے کہ وہ حلال حرام کی تمییز کھو بیٹھے۔ 2 عبداللہ بن عمر رضی الله عنه کے دسترخوان پر مساکین بھی موجود ہوتے تھے، ایک دن ایک شخص کھانا کھا کر گیا تو انہوں نے اپنے خادم نافع سے فرمایا: یہ شخص دوبارہ میرے دسترخوان پر نہ آئے کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔" 3۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ بھوکا وہ رہے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ سیر ہو کر کھا تا ہے. " ابن عبدالبر رحمه الله اس حدیث پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں: "مومن دنیا میں کھانے پینے میں میانہ روی اختیار کرتا ہے، جبکہ دنیا کو اہمیت دینے والے کافر یا بے وقوفوں کی سوچ ہوتی ہے کہ اچھے سے اچھا کھانا کھایا جائے۔ " 4۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "روزِ قیامت ایک موٹا تازہ شخص آئے گا، اللہ کے ہاں وہ مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہو گا۔ " 5۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہے اور تین کا چار کے لیے کافی ہے۔ " معلوم ہوا کہ مومن کا دل تنگ نہیں ہوتا کہ کسی کو کھانے میں شریک نہ کر سکے، بلکہ اگر کھانا پورا پورا بھی ہے تو شریک کر لے وہ انہیں کافی ہو جائے گا، ان کا دل مطمئن ہو گا۔ 6۔ نبی ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے: "اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا" اے اللہ!آل محمد کا رزق زندگی برقرار رکھنے جتنا کردے۔ 7۔ نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ کھانے میں مقابلہ بازی کرنے والوں کا کھانا نہ کھایا جائے۔ عجیب معاملہ یہ ہے کہ ہمارے شادی بیاہ یا عام دعوتوں ہر یہی مقابلہ بازی چل رہی ہوتی ہے کہ فلاں سے زیادہ اچھا کھانا ہو یا زیادہ انواع کا کھانا ہو۔ 8۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص صبح اس حال میں کرے کہ وہ اپنے اور اہل و عیال کے بارے میں بے خوف ہو، جسمانی طور پر عافیت میں ہو، ایک دن کا کھانا بھی اس کے پاس ہو تو وہ ایسے ہے جیسے وہ ساری دنیا کا مالک ہے۔ " نبی ﷺ اور ان کے اہل کے کھانے کا بیان 1۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مجھے اللہ کے راستے میں اس قدر ڈرایا گیا کہ کسی اور کو اتنا نہیں ڈرایا گیا، اور مجھے اللہ کی راہ میں اتنی اذیت دی گئی کہ کسی اور کو اتنی نہ دی گئی۔ اور مجھ پر ایسا بھی وقت آیا کہ تیس دن اور تیس راتیں میرے اور بلال کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا، سوائے اس معمولی سی خوراک کے جو بلال بغل میں دبا کر لے آئے تھے۔" 2۔ عائشة رضی الله عنھا بیان کرتی ہیں: "نبی ﷺ کے گھر والوں نے کبھی تین دن سیر ہو کر گندم کی روٹی کھائی یہاں تک کہ آپ اپنی راہ پر روانہ ہو گئے۔" 3۔ انس رضی الله عنه فرماتے ہیں: میں نبی ﷺ کے پاس تھوڑا سا آٹا اور پرانا سالن لے کر گیا تو نبی ﷺ کو فرماتے سنا: "میرے گھر والوں نے کبھی پیٹ بھر کر نہ صبح کی نہ شام کی۔ " 4۔ ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں: "وفات تک نبی ﷺ کو پیٹ بھر کر جو کی روٹی کھانا نصیب نہیں ہوئی۔ " 5۔ عائشة رضی الله عنھا نبی ﷺ کی وفات کے بعد فرماتی ہیں: "میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں کہ جن کو کبھی پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوا۔ " 6۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کسی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کی ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تمہیں کس چیز نے تمہارے گھروں سے نکالا؟“ انہوں نے عرض کیا، بھوک نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا جس نے تمہیں نکالا ہے، چلو!“ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل دیئے۔ آپ ایک انصاری صحابی کے پاس تشریف لائے لیکن وہ گھر پر نہیں تھے، جب اس کی اہلیہ نے آپ کو دیکھا تو کہا: خوش آمدید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”فلاں کہاں ہے؟“ اس نے عرض کیا: وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں، اتنے میں وہ انصاری بھی تشریف لے آئے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو پکار اٹھے: الحمد للہ، مہمانی کے لحاظ سے آج کا دن میرے لیے بہت ہی باعث عزت ہے، راوی بیان کرتے ہیں، وہ شخص گیا اور کھجوروں کا خوشہ لایا جس میں کچی، پکی اور عمدہ ہر قسم کی کھجوریں تھیں، اس نے عرض کیا، آپ انہیں تناول فرمائیں، اور خود اس نے چھری پکڑ لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ”دودھ دینے والی بکری سے احتیاط کرنا۔ “ اس نے ان کی خاطر بکری ذبح کی، انہوں نے اس بکری کا گوشت کھایا اور کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔ جب وہ سیر و سیراب ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روز قیامت تم سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، بھوک نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، پھر تم ان نعمتوں سے مستفید ہو کر واپس جاؤ گے۔" گویا روئے زمین کی تین افضل ترین شخصیات بھوک کے باعث گھر سے نکلنے پر مجبور ہو گئیں، اور پھر تھوڑا گوشت کھجوریں تناول فرما لیا اور پھر بھی نبی ﷺ فرمایا رہے ہیں کہ اس کے بارے میں سوال ہو گا۔ 7۔ "ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (اپنی بیوی) ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں سن کر آ رہا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز (فاقوں کی وجہ سے) کمزور پڑ گئی ہے اور میں نے آواز سے آپ کے فاقہ کا اندازہ لگایا ہے۔ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں اور ایک اوڑھنی لے کر روٹی کو اس کے ایک کونے سے لپیٹ دیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ " گویا کہ کم کھانے کے باعث اتنی نقاہت ہو گئی تھی کہ صحابی کو اواز سے معلوم ہو گیا۔ اور مکمل حدیث، جو کہ طوالت کے باعث ذکر نہیں کی گئی، اس سے معلوم ہوتا ہے کی تمام صحابہ کی جماعت بھی اس وقت فاقے سے تھے۔ 8۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ " عیاض رحمه الله فرماتے ہیں: "ٹیک لگا کر انسان زیادہ کھا لیتا ہے اس لئے اس سے احتراز کیا۔ " امام ابن عثیمین رحمه الله فرماتے ہیں: "اس حالت میں بیٹھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان مطمئن ہے۔ پس نبی ﷺ کو ایسے بیٹھنا بھی پسند نہ تھا کہ جس سے پیٹ بھر کر مطمئن ہونا جھلکتا ہو۔ " شبہ: یہ تمام واقعات تنگی کے زمانے کے ہیں، پس اگر الله وسعت عطا کرے تو کھانے پینے میں حرج نہیں۔ الله تعالی فرماتے ہیں [کُلُواْ وَاشْرَبُواْ] یعنی کھاؤ اور پیو، اسی طرح فرماتے ہیں [وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ] اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کیجئے۔ جواب: یہ شبہ دراصل لوگوں نے خواہش پرستی کے لئے گھڑ لیا ہے، کتاب و سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ الحمدللہ اس کا جواب مختلف طریقوں سے دیا جا سکتا ہے۔ 1۔ رسول اکرم ﷺ کی زندگی کو ہمارے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ ان کی زندگی ہمارے لئے ہر زاویے سے مثالی ہے، اس لئے جیسی زندگی ان کی گزری وہی اکمل ترین صورت ہے۔ یوں سمجھئے کہ الله تعالی نے نبی ﷺ کو انہی حالات سے نوازا جو اس کو محبوب ہیں، گویا کہ کم کھانا بھی الله کو پسندیدہ ہے۔ 2۔ الله تعالٰی نے فرمایا ہے [کُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ] کھاؤ اور پیو نگر حد سے تجاوز نہ کرو۔ گویا الله تعالی نے کھانے پینے کے ذکر کے ساتھ ہی اس میں حد سے تجاوز کو منع کر دیا۔ اور یہ حد وہی ہے جو نبی ﷺ نے مقرر کی ہے–جتنے کھانے سے کمر سیدھی رہے۔ وہیب بن ورد رحمه الله اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "کھانے پینے میں اسراف یہ ہے کہ انسان کمر سیدھی رکھنے کے لئے ضروری کھانے سے زیادہ کھائے۔ " 3۔ نبی ﷺ کی وفات کے بعد جب فتوحات ہو گئیں اور مسلمانوں کے پاس مال بڑھ گیا، اس کے بعد بھی صحابہ کرام رضی الله عنھم اجمعین اور سلف صالحین رحمھم الله کا طرز عمل وہی تھا۔ برسبیل مثال چند واقعات بیان کئے جاتے ہیں: 1. عمر رضی الله عنه ایک شخص کی دعوت پر گئی تو باہر نکل کر فرمایا: کاش میں اس بندے کے پاس نہ آتا، یہ شخص تو کھانے میں مقابلہ بازی کرتا ہے۔ 2. عمر رضی الله عنه فرماتے ہیں: "میں چاہوں تو مختلف انواع و اقسام کے کھانے جمع کر لوں، اور چاہوں تو موٹا تازہ جانور ذبح کر کہ کھاؤں، اور منقع اور کھجوریں گھی میں بھگو کر کھاؤں اور کھاؤں مگر میں نے الله تعالی کا یہ فرمان سنا ہوا ہے [أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ] کہا جائے گا کہ تم اپنی دنیا کی زندگی میں اپنے مزے اڑاچکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے سو آج تم ذلت کے عذاب کی سزا پاؤ گے۔ 3. عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنه امیر ترین صحابہ میں سے تھے۔ ایک بار روز رکھا اور افطاری کے وقت کھانا سامنے آیا تو بے اختیار مسلمانوں کا گذشتہ فقر و فاقہ یاد آگیا بولے: مصعب بن عمیر رضی الله عنه مجھ سے بہتر تھے، وہ شہید ہوئے تو کفن میں صرف ایک چادر تھی جس سے سرچھپا یا جاتا تھا تو پاؤں کھل جاتے تھے اور پاؤں چھپائے جاتے تھے تو سر کھل جاتا تھا، اسی طرح حمزہ بن عبد المطلب ؓ شہید ہوئے، حالانکہ وہ مجھ سے بہتر تھے، لیکن اب دنیا ہمارے لیے کشادہ ہو گئی ہے اور ہمیں اس قدر دنیاوی نعمتیں مرحمت کی گئی ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ شاید ہماری نیکیوں کا معاوضہ دنیا ہی میں ہو گیا، اس کے بعد اس قدر رقت طاری ہوئی کہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ 4. عبدالله بن عمر رضی الله عنه بھی امیر صحابہ میں شامل تھے، ایک دن کسی نے کہا کہ میں آپ کو جوارش دے دوں؟ پوچھا جوارش کیا ہے؟ عرض کی کہ زیادہ کھا لیں تو ہضم کرنے میں معاون ہے۔ فرمایا: "میں نے چار ماہ سے پیٹ بھر کر نہیں کھایا، حالانکہ میں اس پر قادر ہوں، لیکن میں نے ایسے لوگوں کو پایا ہے جن کا بھوکا رہنے کا دورانہ پیٹ بھرنے سے کہیں زیادہ تھا۔ " 5. ابوعبیدہ رضی الله عنه ملک شام کے گورنر تھے۔ ایک بار عمر رضی الله عنه آئے تو دیکھا کہ ان کے گھر میں کھانے کے پیالے میں فقط پانی اور روٹی کے ٹکڑے تھے۔ یہ سادگی دیکھ کر عمر رضی الله عنه رونے لگے اور فرمایا : اللہ کی قسم ! تم ویسے ہی ہو جیسے رسول اللہ ﷺکے زمانے میں تھے ، اس دنیا نے تم پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ 6. عمر رضی الله عنه نے ایک بار جابر رضی الله عنه کو گوشت لے کر جاتے دیکھا تو پوچھا یہ کیوں خریدا؟ فرمایا: گوشت کھانے کا دل کر رہا تھا تو خرید لیا۔ عمر رضی الله عنه نے فرمایا: "کیا جب بھی تمہارا دل کرتا ہے تم چیز خرید لیتے ہو؟؟ " 7. حسن بصری رحمه الله نے دسترخوان پر کسی شخص کو کہا کہ مزید کھاؤ تو اس نے عرض کی کہ اتنا کھا لیا ہے کہ مزید کی گنجائش نہیں۔ حسن رحمه الله بولے: "سبحان الله! کیا ایک مسلمان اتنا زیادہ بھی کھا سکتا ہے کہ مزید کی گنجائش نہ رہے؟ " 8. بعض تابعین جب بازار میں جاتے اور تازہ پھل دیکھتے تو فرماتے: "تم سے جنت میں ملاقات ہو گی۔ " پس انسان کو چاہئے کہ بعض چیزیں اس لئے بھی چھوڑ دے کہ وہ آخرت میں انہیں حاصل کرے گا۔ پیٹ بھرنے کا فقہی حکم فقہاء نے کھانا کھانے کی متعدد صورتیں بیان کی ہیں: 1. اتنا کم کھانا کہ انسان عبادت اور دیگر معاملات نہ کر سکے۔ جیسا کہ بعض صوفیاء کے ہاں بطور عبادت رائج ہے، یا عصرِ حاضر میں بھوک ہڑتال۔ یہ صورت بالاتفاق حرام ہے۔ 2. اتنا کھانا کہ جس سے کمر سیدھی رہے اور عبادت میں مشکل نہ ہو۔ یہ اس اسوہ حسنہ ہے اور یہی سلف صالحین کا طریقہ تھا۔ 3. پیٹ کا ایک تہائی حصہ بھر لیتا ہے۔ یہ صورت جائز ہے۔ 4. اتنا پیٹ بھر لیتا ہے کہ عبادات یا معاملات میں دشواری محسوس ہو۔ یہ صورت مکروہ ہے۔ 5. اتنا زیادہ کھا لینا کہ عبادات اور معاملات سے قاصر رہے۔ جیسا کہ عموماً لوگ افطاری میں اتنا کھا لیتے ہیں کہ نماز پڑھنا تو دور، ہلنے جلنے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔ یہ صورت حرام ہے۔ ابن حجر الھیتمی رحمه الله نے "الزواجر" میں کبیرہ گناہوں گنواتے ہوئے بغیر دعوت کھانے پر جانے، میزبان کی ضرورت سمجھے بغیر مسلسل کھاتے چلے جانا، اپنے پیسوں سے اتنا کھا کہ دین و دنیا کا نقصان ہو، اور کھانے پینے کو مقابلہ بازی کا ذریعہ بنانا بھی شامل کیا ہے۔ اس کی ایک معاصر صورت یی بھی ہے کہ ولاگرز مختلف ریسٹورنٹس پر جا کر ویڈیوز بناتے ہیں، زیادہ کھانے کے مقابلے لگاتے ہیں، اور دیگر فضول حرکات کرتے ہیں۔ موٹاپے کا حکم موٹاپے کی دو قسمیں ہیں: 1. بیماری کے باعث موٹاپا۔ اس پر انسان کا اختیار نہ ہونے کے باعث ملامت نہیں۔ 2. بہت زیادہ کھانے کے باعث موٹاپا۔ یہ شرعاً حد درجے مذموم ہے۔ حدیث میں ہے: "سب میں بہترین زمانہ میرا ہے۔ پھر جو ان سے نزدیک ہیں، پھر جو ان سے نزدیک ہیں پھر جو ان سے نزدیک ہیں۔پھر ان کے بعد وہ لوگ پیدا ہوں گے جو گواہی کے مطالبہ کے بغیر گواہی دیں گے، خائن ہوں گے اور امانتداری نہ کریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے اور ان میں موٹاپا پھیل جائے گا۔" بعض علماء فرماتے ہیں: "ہمارے وقتوں میں موٹے شخص کو اس نظر سے دیکھا جاتا تھا جیسے کوئی اعلانیہ گناہ کرنے والا ہو۔ " کم کھانے کے فوائد ابن رجب رحمه الله فرماتے ہیں کہ کم کھانے کے چار اہم ترین فوائد ہیں: 1. دل نرم ہو جاتا ہے 2. ذہانت نصیب ہوتی ہے۔3. انسان متواضع ہو جاتا ہے۔4. خواہشات اور غصہ وغیرہ کم ہو جاتے ہیں۔اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر دل پر اثر نہیں ہوتا، یا قیام اللیل سے اثر نہیں پڑتا، یا رونا نہیں آتا۔ حالانکہ وہ خود ہی اتنا زیادہ کھا لیتے ہیں کہ ان کا دل سخت ہو جاتا ہے۔ امام احمد رحمه الله سے پوچھا گیا "کیا موٹا شخص نرم دل ہو سکتا ہے؟ " فرمایا: "میرا نہیں خیال کہ ایسا ممکن ہے۔ " سفیان ثوری رحمه الله فرماتے ہیں: "کم کھانے سے انسان رات کو اٹھ پاتا ہے۔ "طلاب العلم کے لئے نصیحت 1. ابو ہریرەؓ، حافظ الدنیا، سید المحدثین، ایک بڑے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے مگر طلب علم کے لئے گھر بار چھوڑ کر مدینہ آ گئے اور یہ حالت ہو گئی کہ خود فرماتے ہیں: "میں مسجد میں منبر کے قریب بے ہوش ہوتا تھا اور لوگ مجھے مجنون سمجھ کر میرے اوپر سے گزر جاتے تھے حالانکہ میں فقط بھوک کے باعث بے ہوش ہوتا تھا۔ " 2. امام سحنون رحمه الله فرماتے ہیں: "پیٹ بھر کر کھانا کھانے والے کے لئے علم حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ "3. نضر بن شمیل رحمه الله فرماتے ہیں: "کوئی شخص تب تک طالب علم نہیں ہو سکتا جب تک اسے بھوک لگےاور وہ بھوک کو بھول نہ جائے۔ "4. حافظ بن أحمد الحکمی رحمه الله کے پاس ملازمہ کھانا رکھ کر جاتی اور کچھ دیر بعد واپس آتی تو کھانا جوں کا توں پڑا ہوتا اور فرماتے: "یہ کھانا واپس لے جاؤ میرا علم سے ہی پیٹ بھر گیا ہے۔ "5. نونیة القحطانی کے چند اشعار کا مفہوم ہے: "پیٹ بھر کر نہ کھاؤ کیونکہ علماء موٹے نہیں ہوتے۔ "6. امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں: "میں نے وکیع کے علاوہ کسی موٹے کو عقل مند نہیں پایا۔ "7. سلف صالحین ایک دوسرے کو تنہائی میں کہتے: "مجھے لگتا ہے ہمارا الله کی ہاں مقام گر گیا ہے کیونکہ کتنے ہی دن بیت گئے ہیں ہم بھوکے نہیں رہے۔ الله تو اپنے بندوں کو بھوک سے نوازتا ہے۔ "اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمناتحریر و تلخیص : عبدالمعیز وحید