أكلاتٌ يقمن صلبه :چند لقمے جو کمر کو سیدھا رکھیں

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

 

الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ

احادیث رسول ﷺ میں کم کھانے کی تعریف اور زیادہ کھانے کے مذمت

1۔ رسول ﷺ نے فرمایا: “آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا، آدمی کے لیے کافی ہے کہ وہ اتنے لقمے کھائے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں، لیکن اگر آدمی پر اس کا نفس غالب آ جائے، تو پھر ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے، اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھے ” اس حدیث میں “اکلات” کا لفظ استعمال ہوا ہے جو عربی اسلوب کے مطابق تقلیل یا چھوٹے ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔ گویا انسان کو چاہئے کی تھوڑے اور چھوٹے لقمے لے۔ امام نووی رحمه الله نے اس حدیث کو چالیس جامع ترین اور اسلام کے قواعد کبری پر مشتمل احادیث میں ذکر ہوا۔ معلوم ہوا کہ اہل علم کے ہاں کم کھانا اسلام کے قواعد میں سے ایک عظیم قاعدہ ہے۔ امام ابن حبان رحمه الله نے اس حدیث کو ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: “انسان کا اپنی جائز حاجت سے زیادہ کھانے پر خدشہ ہے کہ وہ آخرت میں حرام کھانے والوں میں شامل ہو۔” یعنی ممکن ہے کہ کھانے کی شہوت اس قدر غالب آ جائے کہ وہ حلال حرام کی تمییز کھو بیٹھے۔

2 عبداللہ بن عمر رضی الله عنه کے دسترخوان پر مساکین بھی موجود ہوتے تھے، ایک دن ایک شخص کھانا کھا کر گیا تو انہوں نے اپنے خادم نافع سے فرمایا: یہ شخص دوبارہ میرے دسترخوان پر نہ آئے کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: “مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔”

3۔ نبی ﷺ نے فرمایا: “قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ بھوکا وہ رہے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ سیر ہو کر کھا تا ہے. ” ابن عبدالبر رحمه الله اس حدیث پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں: “مومن دنیا میں کھانے پینے میں میانہ روی اختیار کرتا ہے، جبکہ دنیا کو اہمیت دینے والے کافر یا بے وقوفوں کی سوچ ہوتی ہے کہ اچھے سے اچھا کھانا کھایا جائے۔ ”

4۔ نبی ﷺ نے فرمایا: “روزِ قیامت ایک موٹا تازہ شخص آئے گا، اللہ کے ہاں وہ مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہو گا۔ ”

5۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: “دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہے اور تین کا چار کے لیے کافی ہے۔ ” معلوم ہوا کہ مومن کا دل تنگ نہیں ہوتا کہ کسی کو کھانے میں شریک نہ کر سکے، Ø