ہنسیں کم اور روئیں زیادہ فضیلة الشیخ الدکتور عبدالباسط فہیم حفظه الله🖊️ دل نرم ہو تو: قرآن مجید پڑھنے کا اثر ہوتا ہے..... مجالس علم میں دل لگتا ہے..... زبان پر ذکر جاری رہتا ہے..... گناہ پر شرم آتی ہے..... اللہ کے خوف سے دل کانپتا ہے....اور یہی دل اگر سخت ہو جائے تو مسجد میں، درس میں، دل نہیں لگتا۔ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کو دل کی سختی اور اللہ سے دوری سے بڑی سزا نہیں مل سکتی! اللہ فرماتا ہے: ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً "پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سےبھی زیادہ سخت ہوگئے۔ "ابن القیم رحمہ اللہ ایک مقام پر فرماتے ہیں کہ جب دل سخت ہو جائے تو آنکھ خشک ہو جاتی ہے۔ گویا یہ آنکھ دل کے حال پر دلالت کرتی ہے؛ دل سخت ہے یا نرم! * اللہ تعالی کا فرمان: اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا "جب ان (انبیاء) پر رحمٰن کی آیتیں پڑھی جاتیں گر پڑتے سجدہ کرتے اور روتے۔ " ایک بار عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا تو فرمایا: "ہم نے انبیاء کی سنت میں سجدہ تو کر لیا، مگر روئے گا کون؟؟! (رواہ ابن ابي حاتم والطبري) * اللہ تعالی فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا • وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا • وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا "جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے ،بیشک ہمارے رب کا وعدہ پوراہونے والا تھا۔ اور وہ روتے ہوئے ٹھوڑی کے بل گرتے ہیں اور یہ قرآن ان کے دلوں کے جھکنے کو اور بڑھادیتا ہے۔ "* اسی طرح اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّۚ-یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ "اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا تو ان کی آنکھیں دیکھوکہ آنسوؤں سے اُبل رہی ہیں اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ دے۔ "* نبی ﷺ کثرت سے روتے تھے، اور فرماتے: "اگر تمہیں وہ حقائق معلوم ہو جائیں جو مجھے معلوم ہیں تو تم رو زیادہ اور ہنسو کم۔ " اللہ عزوجل فرماتا ہے: فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا "یہ ابھی تھوڑا ہنس لیں، پھر یہ بہت زیادہ روئیں گے۔ "* قیامت کے دن جو لوگ عرش کے سائے تلے ہوں گے، حدیث میں آتا ہے کہ ان میں سے ایک وہ شخص بھی ہے کہ جو اللہ کو یاد کرتا ہے تو آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ وہ آدمی جو اللہ کے ڈر سے رو پڑے، اس کا جہنم میں جانا ایسے ہی ناممکن ہے جیسے جانور کے نکلے ہوئے دودھ کا واپس تھن میں جانا۔ * نبی ﷺ اپنے صحابہ کرو ترغیب دیا کرتے تھے کہ قبروں کی زیارت کرو تاکہ موت کی یاد آئے۔ ایک بار صحابہ کے ساتھ اپنی والدہ کی قبر پر گئے تو اتنا روئے کہ ان ﷺ کو دیکھ کر صحابہ بھی رونے لگے۔ * ابوبکر رضی اللہ عنہ کفارِ مکہ کی آزمائشوں سے تنگ آ کر مکہ سے جا رہے تھے، تو ایک سردار نے پوچھا کدھر جا رہے ہو؟ فرمایا کہ مکہ کی زمین تنگ ہو گئی ہے، عبادت کرنا محال ہے۔ اس سردار نے کہا کہ تم جیسا آدمی مکہ چھوڑے، یہ اچھی علامت نہیں۔ میں آپ کو پناہ دیتا ہوں۔ پھر مکہ والوں نے شرط رکھی کہ یہ صرف گھر میں عبادت کریں گے۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر پر عبادت کرتے رہتے، اور زاروقطار روتے۔ پھر ایک وقت پر گھر سے باہر آ کر عبادت کرنے لگ گئے۔ ان کو دیکھ کر عورتیں اور بچے بھی رونے لگتے۔ چنانچہ مکہ والوں نے شکایت کی تو آپ نے اس سردار سے کہا کہ تم اپنی پناہ واپس لے لو، میری حفاظت اللہ کرے گا۔ * آخری ایام میں نبی ﷺ نے نماز پڑھانے کے لئے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام لیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ اپنے رونے پر قابو نہیں رکھ پاتے، ان سے پڑھا ہی نہ جائے گا۔ آپ عمر رضی اللہ عنہ کو کہہ دیجئے۔ * عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بار اللہ تعالی کا فرمان: قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ "یعقوب علیہ السلام نے کہا: میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں. " پڑھا تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ پچھلی صفوں میں ہونے کے باوجود مجھے ان کی آواز آ رہی تھی۔ * عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، چنانچہ میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء میں سے تلاوت کی، جب میں آیت فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا پر پہنچا تو رسول اللہ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا (کہ بس کرو، آگے نہ پڑھو) میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔* عثمان رضی اللہ عنہ جنت جہنم کے تذکرے پر نہ روتے تھے، مگر قبر کے تذکرے پر اتنا روتے کہ داڑھی بھیگ جاتی۔ پوچھا گیا تو فرمایا: نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، جو یہاں بچ گیا وہ آگے بھی بچ گیا، اور جو یہاں پھنس گیا تو آگے بچنا محال ہے۔ حالانکہ یہی عثمان رضی الله عنہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ * عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، عشرہ مبشرہ کے صحابی، افطار کے وقت بیٹھے اور سامنے کھانا لایا گیا تو نعمتیں دیکھ کر کہنے لگے' مصعب میرے سے بہتر تھے، احد میں شہید ہوئے تو ان کے پاس ایک چادر کفن کے سوا کچھ نہ تھا، جس سے پاؤں ڈھکتے تو سر ظاہر ہو جاتا اور سر پر دیتے تو پاؤں رہ جاتے۔ پھر ان کے پاؤں پر گھاس ڈال کر دفنایا گیا۔ اسی طرح حمزہ رضی اللہ عنہ میرے سے بہتر تھے، شہید ہوئے تو ان کا بھی یہی معاملہ تھا۔ مجھے خوف ہے کہ ہم زندہ رہ جانے والوں پر دنیا کھول دی گئی ہے، ایسا نہ ہو کہ یہاں نصیب پورا ہو جائے اور آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں۔ یہ کہہ کر اتنا روئے کہ کھانا تک نہ کھا سکے۔ افسوس، ہم نعمت چھننے پر روتے ہیں کہ کہیں رب ناراض تو نہیں، اور وہ نعمتیں ملنے پر رو رہے تھے کہ کہیں رب ناراض تو نہیں! * نبی ﷺ بادل آنے اور ہوائیں چلنے پر پریشانی نے عالم میں گھر کے اندر باہر آنے لگتے، پوچھا گیا تو فرمایا مجھے ڈر ہے کہ نہیں یہ ویسے بادل نہ ہوں جیسے ہود علیہ السلام کی قوم پر آئے تھے۔ رونے سے قاصر رہنے کی وجہ دل کی سختی ہے۔ دل بری صحبت، گناہوں، ھجر قرآن و ھجر مجالس علم سے سخت ہو جاتا ہے۔ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دل چار چیزوں کے ضرورت سے زائد استعمال پر سخت ہو جاتا ہے: کھانا، نیند، کلام، اور لوگوں کے ساتھ کثرتِ مجالست۔ پیٹ بھرا ہو گا تو نماز میں خشوع نہ ہو گا، سستی کے باعث قیام اللیل سے رہ جاؤ گے۔ سارا دن نیند میں گزار دو گے تو آخرت کا کب سوچو گے؟ تمام وقت لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں لگا دو گے تو آخرت، موت کب یاد آئیں گی؟ محاسبہ نفس کب ہو گا؟ رب سے مناجات کب ہوں گی؟؟ اللہ ہمارے دلوں کو زندہ کر دے، اور ان لوگوں میں سے بنا دے جو رکوع و سجود میں روتے ہیں۔ (آمین) تلخیص و تحریر: عبدالمعز وحید