طالب علم کے لیے مراجعہ اور مذاکرہ کی اہمیت
أستاذ: حافظ محمد طاہر حفظه اللّٰه
1) نسیان انسان کی صفت لازمہ ہے
* ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا واذكر ربك إذا نسيت
* نسیان پر مواخذہ نہیں۔
2) مذاکرہ/ مراجعہ کے بغیر حفظ ممکن نہیں۔
* لکل شيء آفة و آفة العلم النسيان وقلة المذاكرة
ہر چیز کی ایک آفت ہوتی ہے اور علم کی آفت بھولنے اور مذاکرہ کی قلت میں ہے۔
* بعض محدثین افسوس کرتے کہ بہت سی چیزیں انہوں نے پڑھی/سنی وہ اس کو محفوظ نہ رکھ سکے
* امام شعبی کہتے ہیں اگر کوئی میرا بھولا ہوا علم یاد کرلے تو وہ عالم بن جائے۔
* من حدث ثم نسي جس نے حدیث بیان کی اور بھول گیا
* سیدنا عمر کا واقعہ تيمم کے متعلق۔ حضرت عمار انہیں کو یاد دلارہے تھے لیکن ان کو یاد نہیں آیا۔
3) حفظ کرنے کا طریقہ
* بار بار تکرار/دہرائی
شریعت میں بعض چیزیں بار بار دہرانے کا حکم ہے جیسے سورة الفاتحة.
قرآن میں بعض قصص بار بار دہرائے بعض آیتیں بار بار دہرائیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب کوئی بات کرتے تو 3 دفعہ دہراتے یہاں تک کہ وہ بات اچھی طرح سے سمجھ لی جاتی
* مداومة النظر
کوئی بھی چیز یاد کرنے کا آسان طریقہ اس کو بار بار دہرائیں۔ پہلے ہر دن دہرائیں پھر ہر ہفتے پر لے جائیں۔
حدیث کو بھی حفظ اور اس کی تصحیح مذاکرے کے ساتھ کی جاتی ہے۔
* جو چیز اہم محسوس ہو اسے الگ سے لکھ لیں اور دہرائیں۔
4) تکرار کا طریقہ کار
مراجعہ: دہرائی۔
مذاکرہ: ذہن سے نکلی ہوئی چیز کو واپس لانا اور عموما ایک سے زائد لوگوں کا آپس میں علم کی دہرائی کرنا۔ شیخ یا اپنے ساتھیوں کے ساتھ مذاکرہ کرنا
تذاکروا الحدیث فإن حياته ذکرہ
امام علقمہ فرماتے ہیں: حدیث کا مذاکرہ کرو کیونکہ اس کا مذاکرہ کرنا ہی اس کی زندگی ہے۔
اسی طرح یہ بھی فرماتے ہیں: حدیث کو بہت زیادہ دہرایا کرو۔ دہرانے سے یہ بھولتی نہیں۔
* ایک کتاب کو دوبارہ پڑھنا کہیں زیادہ مفید ہے اس سے کہ دو الگ الگ کتابیں پڑھیں۔
* ایک ہی کتاب کو کئی علماء سے پڑھنا
* دل میں علم کو دہراتا رہے۔
علم کو اپنی سوچ بنائیں
* کسی اور کو سنائیں جو حدیث آپ نے سنی۔
بعض محدثین کو اگر کوئی نہ ملتا تو غریبوں اور مسکینوں کے پاس جاکر ان کو سنا دیتے۔
* اونچی آواز سے مذاکرہ کرنا جو کان سن لیتے ہیں وہ دل میں زیادہ اچھی طرح پختگی کے ساتھ بیٹھ جاتی ہے۔
5) فوائد
من اکثر المذاكرة لم ينسى ما علم واستفاد ما لم يعلم
جو زیادہ مذاکرہ کرتا ہے وہ اس علم کو نہیں بھولتا جو اس نے یاد کرلیا ہو اور اس کو وہ بھی یاد ہوجاتا ہے جو اس کو یاد نہیں تھا۔
* جو چیز یاد کی ہے وہ بھولتی نہیں
امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی حفظ کا جو راز بتایا ہے وہ یہ کہ کوئی انسان کسی بھی چیز کو توجہ کے ساتھ لے اور اس پر ہمیشہ نظر ڈالتا رہے تو وہ اسے یاد ہوجاتی ہے۔ یعنی مسلسل اسے دہراتا رہے۔
امام ابو ہلال العسکری فرماتے ہیں کہ جب میں نے علم کے حفظ کا آغاز کیا تو مجھے شروع میں بہت زیادہ مشکل ہوتی چیزوں کو یاد کرنے میں پھر میں نے اپنے نفس کو اس کا عادی بنالیا۔ (بار بار اس کو دہراتے) یہاں تک کہ میں نے ایک قصیدہ ایک رات میں یاد کیا جس کے 200 اشعار تھے۔ (دہرا کر)
امام رامہرمزی کہتے ہیں حدیث کو اس وقت تک اچھی طرح سے اپنے پاس محفوظ نہیں کرسکتے جب تک اسے لکھ نہ لیں اس کا مدارسہ نہ کریں حفظ نہ کریں اور اس کا مذاکرہ نہ کرسکیں۔
* حفظ میں معاونت
جو چیز یاد نہیں ہوتی وہ یاد ہوجاتی ہے۔
بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو دیکھ کر پڑھتے رہنے یا بار بار سننے سے یاد ہوجاتی ہے۔ جیسے صبح شام کے اذکار اور اسی طرح ہر جمعہ سورہ کہف پڑھنا۔ ہر رات سورة الملك پڑھیں گے تو یاد ہوجاتی ہے
نبی ﷺ وحی کو دہراتے تاکہ یاد ہوجائے
دل ایسا برتن ہے جتنا اس میں ڈالیں گے یہ اتنا وسیع ہوتا ہے۔
جب ایک شخص علم حاصل کرنا شروع کرتا ہے تو اس کا دل گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی ہوتا ہے یعنی چھوٹا سا ہوتا ہے۔ چیزیں یاد کرنا اس کے لیے مشکل ہورہی ہوتی ہیں۔ پھر جب وہ اس کو دہراتا ہے پڑھتا ہے مذاکرہ کرتا ہے تو اس کا دل وادی بن جاتا ہے جس مین بہت ساری چیزیں آسکتی ہیں
اپنے سینے کے علم کو کتابوں کے علم سے زیادہ دہرایا کریں۔
6) بہترین وقت
* رات کا وقت
* سحری کا وقت
وجہ: خالی الذہن ہوتا ہے
* ساتھ ساتھ دہرائی کرنا
یعنی اگلا سبق پڑھنے سے پہلے پچھلا سبق دہرا لیں۔