امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ (٣١٠هـ) نے قرآن مجید کی قرآن سے، سنت سے، اقوالِ صحابہ وتابعین سے تفسیر کے ساتھ ساتھ صحیح عقیدے، لغوی دقت، نحوی اختلاف، قراءات، فقہ، معقول ومنقول اور ترجیح واختیار سے لبریز عدیم النظیر تفسیرِ قرآن تصنیف فرمائی۔
:امام رحمہ اللہ فرماتے ہیں
استخرت الله تعالى في عمل كتاب التفسير وسألته العون على ما نويته ثلاث سنين قبل أن أعمله فأعانني
’’میں نے تفسیر میں کتاب لکھنے پر اللہ تعالی سے استخارہ کیا، پھر اسے لکھنے سے پہلے اپنی اس نیت پر تین سال اللہ تعالی سے مدد طلب کی۔ تو اس نے میری مدد کی۔‘‘ (معجم الأدباء : ٥/ ٢٥٦)
⇚آپ نے اپنے تلامذہ سے کہا : تفسیرِ قرآن کے لیے تیار ہو؟ انہوں نے پوچھا : کتنی ہوگی؟ تو انہوں نے کہا : تیس ہزار ورق ہو جائیں گے۔ شاگرد کہنے لگے : اس کے مکمل ہونے سے پہلے تو زندگیاں بیت جائیں گی۔ تو انہوں نے تین ہزار اوراق میں اس کا اختصار کر دیا۔‘‘ (تاريخ بغداد : ٢/ ٥٥٠ – ٥٥١)
⇚ابوبکر احمد بن کامل بغدادی کہتے ہیں : ’’آپ نے ڈیڑھ سو آیات کی تفسیر ہمیں لکھوائی، پھر اس کے بعد آخر قرآن تک لائے اور ہم پر قراءت کی، یہ ٢٧٠هـ کی بات ہے۔ اس کے بعد آپ کی کتاب خوب شہرت پا گئی اور اس کا ذکر بلند ہوگیا۔‘‘ (معجم الأدباء : ٦/ ٢٤٥٢)
ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نیسابوری بیان کرتے ہیں کہ مجھے امام الائمہ، محمد بن اسحاق ابن خزیمہ رحمہ اللہ (٣١١هـ) نے کہا : ’’مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے محمد بن جریر رحمہ اللہ کی تفسیر لکھی ہے۔‘‘ میں نے کہا : جی ہاں! میں نے ان سے بذریعہ املاء لکھی ہے۔ انہوں نے پوچھا : مکمل؟ میں نے کہا : جی ہاں! کہنے لگے : کس سال؟ میں نے کہا : ’’سن ٢٨٣هـ سے ٢٩٠هـ تک۔‘‘ تو انہوں نے مجھ سے ادھار لی اور کئی سال بعد واپس کی۔ پھر فرمایا : قد نظرت فيه من أوله إلى آخره، وما أعلم على أديم الأرض أعلم من محمد بن جري
’’میں نے اسے شروع سے آخر تک مکمل پڑھا ہے، میرے علم کے مطابق اس وقت زمین پر محمد بن جریر سے بڑا کوئی عالم نہیں۔‘‘ (تاريخ بغداد : ٢/ ٥٥١)
:امام أحمد ابن کامل الشجري رحمہ اللہ (٣٥٠هـ) فرماتے ہیں
حُمل هذا الكتاب مشرقًا ومغربًا، وقرأه كل من كان في وقته من العلماء، وكل فضله وقدمه
’’یہ کتاب مشرق ومغرب میں لے جائی گئی، ان کے دور کے تمام علماء نے اس کا مطالعہ کیا اور سب نے اسے فوقیت وترجیح دی۔‘‘ (معجم الأدبا للحموي : ٦/ ٢٤٥٢)
حافظ ابو حامد فقیہ اسفرائینی رحمہ اللہ (٤٠٦هـ) فرماتے ہیں:
«لَوْ سَافَرَ رَجُلٌ إِلىَ الصِّينِ حَتىَّ يُحصِّلَ تَفْسِيرَ محَمَّدِ بْنِ جَرِيرٍ لَمْ يَكُنْ كَثِيرًَا»
’’اگر کوئی تفسیر ابن جریر کے حصول کے لیے چین تک کا سفر کرے تو کچھ زیادہ نہیں۔‘‘ (تاريخ بغداد : ٢/ ٥٤٨)
امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ (٤٦٣هـ) فرماتے ہیں:
كِتَابٌ فِي التَّفْسِيرِ لَمْ يُصَنِّفْ أَحَدٌ مِثْلَهُ
’’ابن جریر رحمہ اللہ کی تفسیر میں کتاب ہے اور بے مثال ہے، اس جیسی کتاب کسی نے نہیں لکھی۔‘‘ (تاريخ بغداد : ٢/ ٥٤٨)
⇚حافظ نووی رحمہ اللہ (٦٧٦هـ) نے امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے اس قول کو بلا استدراک نقل کیا ہے۔ (تهذيب الأسماء واللغات : ١/ ٧٨)
:نیز فرماتے ہیں
أجمعت الأمة على أنه لم يصنف مثل تفسير الطبري
’’امت کا اجماع ہے کہ تفسیر طبری جیسی کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔‘‘ (كشف الظنون لحاجي خليفة : ١/ ٤٣٧)
شیخ الاسلام بن تیمیہ رحمہ اللہ (٧٢٨هـ) فرماتے: ہیں
وَأَمَّا التَّفَاسِيرُ الَّتِي فِي أَيْدِي النَّاسِ فَأَصَحُّهَا تَفْسِيرُ مُحَمَّدِ بْنِ جَرِيرٍ الطبري فَإِنَّهُ يَذْكُرُ مَقَالَاتِ السَّلَفِ بِالْأَسَانِيدِ الثَّابِتَةِ وَلَيْسَ فِيهِ بِدْعَةٌ
’’لوگوں کے پاس موجود تفاسیر میں سب سے صحیح محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ کی تفسیر ہے، وہ ثابت شدہ اسانید سے اقوالِ سلف نقل کرتے ہیں، اس میں کوئی بدعت نہیں ہے۔‘‘ (مجموع الفتاوى : ١٣/ ٣٨٥)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (٧٤٨هـ) فرماتے ہیں:
وَلَهُ كِتَابُ التَّفْسِيْر لَمْ يصَنّف مثلُه
’’طبری رحمہ اللہ کی کتاب التفسیر ہے، اس جیسی کوئی تصنیف نہیں لکھی گئی۔‘‘ (سير أعلام النبلاء : ١١/ ١٦٦)
:نیز فرماتے ہیں
تَفْسِيْر هَذَا الإِمَام مشحونٌ فِي آيَات الصِّفَاتِ بِأَقوَالِ السَّلَفِ عَلَى الإِثْبَات لَهَا، لاَ عَلَى النَّفِي وَالتَّأْوِيْل، وَأَنَّهَا لاَ تُشْبِهُ صِفَاتِ المَخْلُوْقينَ أَبَدًا
’’اس امام کی تفسیر آیات صفات کی نفی یا تاویل کی بجائے ان کے اثبات پر اقوالِ سلف سے بھری پڑی ہے، اور اس بات سے کہ اللہ تعالی کی صفات مخلوق کی صفات سے ہرگز مشابہت نہیں رکھتیں۔‘‘ (١٤/ ٢٨٠)
کتبه: حافظ محمد طاھر