الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله, أما بعد
کتاب و سنت سے مستفاد علوم میں سے على الإطلاق سب سے افضل و اعلیٰ مقام “علم عقیدہ” کو حاصل ہے۔ اقوال و اعمال کی صحت اسی علم پر موقوف ہے۔ نجات کا دار ومدار بھی اصلا اسی علم پر ہے بلکہ دنیا و آخرت میں ہر خیر و سعادت اسی علم پر موقوف ہے۔
علوم شریعت کے طالب پر شرعا لازم ہے کہ علم عقیدہ کی تحصیل کو بقیہ علوم پر مقدم کرے اور ترجیحی بنیادوں پر اس علم میں رسوخ پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ کثرت فتن اور عقیدہ کی اساسیات سے جہالت کے اس تاریک دور میں یہ واجب مزید تاکیدی ہو جاتا ہے۔
ہل السنہ والجماعہ علم عقیدہ کا عمومی اطلاق تو ارکان ایمان کی تفصیلات اور متعلقات پر کرتے ہیں جبکہ خصوصی اطلاق علم التوحيد پر کرتے ہیں۔
علم عقائد میں رسوخ کے لئیے طالب علم کو مندرجہ ذیل مراحل کی تکمیل کرنی چاہئیے
تمہیدی مرحلہ
اس مرحلہ میں طالب علم صرف ابواب و مسائل عقائد کا اجمالی تصور حاصل کرے۔ اس مرحلہ کے لئیے بہت سی کتب پیش کی جا سکتی ہیں۔ چند ایک کے نام فقط بطور مثال ذکر کر رہا ہوں عقيدة أهل السنة والجماعة لإبن عثيمين, العقيدة الميسرة من الكتاب العزيز والسنة المطهرة لأحمد بن عبد الرحمن القاضي, المختصر في العقيدة لخالد المشيقح
تأصيلی مرحلہ
اس مرحلہ میں طالب علم کو ابواب و مسائل عقائد سے متعلق تفصیلی تصور حاصل کرنا چاہئیے۔ مندرجہ ذیل متون کا دراسہ طالب کے لئیے کافی ہوگا
1.الأصول الثلاثة وأدلتها لشيخ الإسلام محمد بن عبد الوهاب-
2. القواعد الأربعة لشيخ الإسلام محمد بن عبد الوهاب-
3. كتاب التوحيد لشيخ الإسلام محمد بن عبد الوهاب-
4. كشف الشبهات لشيخ الإسلام محمد بن عبد الوهاب-
5. العقيدة الواسطية للشيخ الإسلام ابن تيمية-
6. القواعد المثلى لشيخ ابن عثيمين-
7. الفتوى الحموية الكبرى لشيخ الإسلام ابن تيمية-
تحقيقى مرحلہ
اس مرحلہ میں طالب علم کو چاہئیے کہ سلف صالحین کے جس عقیدہ کے متعلق اس نے تفصیلی تصور حاصل کر لیا اور اجمالی دلائل کی معرفت حاصل کر لی ہے اب اس کے تفصیلی دلائل بھی حاصل کر لے۔
1. عقيدة السلف وأصحاب الحديث لأبي عثمان الصابوني-
2. شرح عقيدة الطحاوية لإبن أبي العز الحنفي-
3. الرد على الجهمية لإبن سعيد الدارمي-
4. رسالة التدمرية لشيخ الإسلام ابن تيمية-
اس کے بعد تخصص کا میدان ہے۔ کتب السنة اور کتب السلف کا اہتمام کرے اور خصوصا شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ابن القیم اور آئمة الدعوة النجدية کے کتب و رسائل کا التزام کرے۔
آخر میں چند اہم نصائح و توجیہات ذکر کرنا چاہتا ہوں
1. مختصرات علم سے ابتداء کرے پھر مطولات کی طرف جائے۔
2. جو طالب علم کتاب التوحید اور عقیدة الواسطية کو اچھی طرح سمجھ لے اور ہضم کر لے تو اہل سنت کے عقائد کا استیعاب کرلے گا۔
3. راسخ العقیدة ماہر استاذ کی صحبت کے بغیر عقيدة میں مہارت حاصل کرنا تقریبا محال ہے۔
4. معتمد کتب عقائد کو ترک کر کے معاصر کتب پر ترکیز کرنا حماقت ہے۔
5. شروحات کا مطالعہ ابتدائی طالب علم کے لئیے باعث نقصان ہے۔ ماہر استاذ سے پڑھے اور اس کی شرح کو ہی ازبر کرے۔
6. کم از کم کتاب التوحید اور عقیدة الواسطية ضرور حفظ کرے۔
7. نصوص عقائد کے حفظ کا اہتمام کرے۔ یہ طالب علم کے لئیے عیب کے کہ اسے عقیدہ تو معلوم ہو لیکن اس کے دلائل کو نہ جانتا ہو۔
8. عقائد اہل سنت کی تکمیلی معرفت کے بغیر اہل بدعت کے رد کے میدان میں داخل نہ ہو۔
9. کتب العقائد المسندة كا خوب اہتمام سے دراسہ کرے۔
انتہائی مراحل تعلیم میں عقائد کے ابواب و مسائل میں سے ہر باب اور مسئلہ کا الگ سے تفصیلا دراسہ کرے اور ہر باب سے متعلق عمدہ تصنیفات کو زیر مطالعہ رکھتے ان کی تلخیصات و فوائد کو مرتب کرے۔ عقائد سے متعلقہ مصادر و مراجع جمع کرے اور اپنا مکتبہ بنائے۔ امید ہے جو طالب اس طریقہ کار پر چلے گا اور ان اصول، نصائح و توجیہات کی رعایت کرے گا ضرور مہارت حاصل کر سکے گا۔
کتبہ؛ شیخ اسامہ ریحان