قرآن مجید اللہ کی عظیم نعمت

قرآن مجید اللہ کی عظیم نعمت:

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کا نزول فرمایا اور ان پر آسمانی صحیفے نازل فرمائے ، جن میں کچھ خاص موضوعات پر تھے اور کچھ نظم کی صورت میں۔ پھر اللہ نے سب سے آخر پر نبی ﷺ کو معبوث فرمایا ان پر تمام کتابوں میں سے سب سے افضل کتاب (قرآن مجید ) عطا کی۔ قرآن مجید تمام علوم کا سر چشمہ اور جامع ہے۔

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا: “کوئی چیز ایسی نہیں جسے ہم نے کتاب میں بیان نہ کیا ہو” امام بیہقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں اس سے مراد: ہر علم کی اصل قرآن میں موجود ہے۔ یہ امت پر اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔

سلف صالحین قرآن کو اللہ کی نعمت مانتے اور اس پر شکر ادا کرتے تھے۔ اللہ فرماتے ہیں: “اے لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کا علاج آچکا ہے ، یہ ہدایت اور رحمت ہے ، اور اس پر خوش ہونا چاہیے”۔

حضرت ابن عباس اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ “فضل“ سے مراد قرآن ہے، اور “رحمت“ یہ ہے کہ اللہ کسی کو اہل قرآن میں شامل کرلے۔

جو قرآن سے جڑتا ہے، اللہ اسے عزت دیتا ہے ، اور جو دور ہو تا ہے ، وہ ذلیل ہوتا ہے۔

صحابہ کرام وحی کے منقطع ہو جانے پر رویا کرتے تھے :

جب نبی ﷺ کی وفات ہوئی، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی زیارت کو گئے ، جیسا کہ نبی ﷺ جایا کرتے تھے۔ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں۔ صحابہ نے سمجھا کہ آپﷺ کے انتقال پر رورہی ہیں۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے تسلی دی کہ نبی ﷺ اب اللہ کے پاس ہیں، جہاں ان کے لیے دنیا سے بہتر انعامات ہیں سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے معلوم ہے ، لیکن میں اس لیے رورہی ہوں کہ وحی کا سلسلہ آسمان سے اب دنیا تک منقطع ہو گیا ہے۔“ یہ سن کر سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی رو پڑے۔

نعمت قرآن کے چھن جانے کا ڈر :

ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے سو سے زائد تفاسیر کا مطالعہ کیا۔ آخری قید میں انہوں نے 80 مرتبہ قرآن مکمل تلاوت کیا۔ پھر جب وہ اس آیت پر پہنچے: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ تو ان کی روح پرواز کر گئی۔

وہ کہا کرتے تھے: “میں نے قرآن کے معانی میں غور کرنے میں بہت کم وقت لگایا، کاش کہ زیادہ لگاتا۔”

یحییٰ بن معاذ الرازی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” دنیا میں میری دو ہی خواہشیں ہیں: ایک خالی گھر ہو ، اور ایک خوبصورت رسم الخط میں لکھا ہوا مصحف ہو ، اور میں بس قرآن کی تلاوت کرتا رہوں۔”

تابعی زرارہ بن ربیعہ العتکی رحمہ اللہ جنہوں نے 120 سال عمر پائی، ان کی بیٹی بیان کرتی ہیں: “جب وہ بیمار ہو گئے، کھڑے ہو کر قیام اور سجدہ نہیں کر سکتے تھے، تو ایک اونچی چٹائی پر بیٹھ کر سجدہ کرتے۔ پھر بھی وہ دعا کرتے:

“اے اللہ باقی نعمتیں تو تُو نے چھین لیں، اب قیام نہیں کر سکتا، سجدہ کی نعمت بھی نہیں رہی، لیکن اے اللہ ! قرآن کی نعمت مجھ سے سلب نہ کرنا۔ “

قرآن مجید سے ہجر :

ہجر سے مراد: کسی چیز کو ترک کر دینا اور اس سے قطع تعلق کر لینا۔

 قرآن کی تلاوت چھوڑ دینا، اس کے معانی پر غور نہ کرنا، اور اس سے شفا طلب نہ کرنا، یہ سب قرآن سے ہجر (یعنی تعلق توڑنے) کی صورتیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
“اور رسول کہیں گے: اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔”

نبی ﷺ قیامت کے دن اپنی امت کی اللہ سے شکایت کریں گے کہ انہوں نے قرآن کی تلاوت ، تعلیمات اور ہدایات کو چھوڑ دیا تھا۔

سلف صالحین کا حزب القرآن :

سلف صالحین رحمہم اللہ کے معمولات میں روزانہ قرآن کی تلاوت ایک لازم عمل تھا۔ انہوں نے قرآن کو ایسے “احزاب” یعنی “ورد” کی صورت میں تقسیم کیا ہوا تھا کہ وہ روزانہ مخصوص مقدار میں تلاوت کو ہر حال میں انجام دیتے۔

امام ابن اثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “جو شخص نماز یا تلاوت کا کوئی حصہ اپنے اوپر لازم کرلے کہ کچھ بھی ہو جائے، روزانہ اس کو پڑھنا ہے ، تو اس کو حزب یا ورد کہا جاتا ہے۔”

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ” مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میرا پورا دن گزر جائے اور میں نے قرآن کو نہ دیکھا ہو۔ ” یعنی انہوں نے قرآن کی تلاوت نہ کی ہو۔

مسند احمد اور ابن ماجہ کی روایت ہے کہ سیدنا اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
“نبی ﷺ مدینہ کے باہر قیام کرنے والے کچھ لوگوں کو روزانہ وعظ و نصیحت کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ تاخیر سے پہنچے ، تو آپ نے فرمایا: میں قرآن کا جو حصہ روزانہ پڑھتا ہوں، اس کی تلاوت میں مشغول تھا۔ مجھے یہ بات نا پسند تھی کہ وہ مکمل کیے بغیر تمہارے پاس آجاؤں۔”

صحابہ کی تلاوت قرآن کا معمول :

سیدنا معاذ بن جبل اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہما کو نبی ﷺ نے یمن کے مختلف علاقوں کا گورنر بنا کر بھیجا، تو ان کی آپس میں ملاقات ہوئی۔

جب یہ دونوں عظیم صحابی ملے تو سیدنا معاذ بن جبل نے سیدنا ابو موسی اشعری سے سوال کیا: ” آپ قرآن مجید کی تلاوت کس وقت اور کس طریقے سے کرتے ہیں؟”

سیدنا ابو موسی نے جواب دیا: چلتے پھرتے، بیٹھے ، کھڑے، سواری پر ہوتے ہوئے جب بھی موقع ملے ، میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں ۔” پھر ابو موسی رضی اللہ عنہ نے معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ” آپ کا معمول کیسا ہے؟”

سیدنا معاذ نے فرمایا: “میں رات کے پہلے حصے میں سو جاتا ہوں، جب بیدار ہوتا ہوں تو تازگی اور نشاط کے ساتھ ، اللہ تعالیٰ نے جو حصہ میرے لیے مقرر فرمایا ہوتا ہے، اس کی تلاوت کرتا ہوں یا قیام اللیل کرتا ہوں۔”

قرآن کی تلاوت کے لیے شرعی سہولت :

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ قرآن کی تلاوت کے لیے مخصوص جگہ ، لباس اور ترتیب ہونی چاہیے۔ اگر ایسا اہتمام نہ ہو تو قرآن نہیں پڑھا جا سکتا۔ لیکن شریعت نے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی۔

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: ” میں اپنے بستر پر ، پلنگ پر بیٹھے بیٹھے اپنا قرآن کا حصہ تلاوت کر لیتی ہوں۔”

قرآن سے سلف صالحین کی انسیت :

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “جب سے میں نے قرآن سیکھا ہے ، اس دن کے بعد سے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے اپنا روزانہ کا حصہ چھوڑ دیا ہو۔”

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ روزانہ قرآن کا ایک چوتھائی (ساڑھے سات پارے) تلاوت کرتے تھے۔ آپ نے ساری زندگی اپنے اس قرآنی حزب میں کبھی ناغہ نہیں کیا، سوائے اس رات کے جس رات آپ کا پاؤں کاٹا گیا۔ مگر اس کے اگلے ہی دن سے پھر اپنی تلاوت کا معمول جاری رکھا۔ اور اگر کبھی کسی دن قرآن کا حزب چھوٹ جاتا، تو وہ نہ صرف قضا کرتے بلکہ اگلے دن دو گنا تلاوت کرتے۔ ان کی قرآن سے محبت ایسی تھی کہ چھوٹ جانے پر دل بے چین ہو جاتا۔

یومیہ حزب رہ جانے پر اس کی قضا :

صحیح مسلم میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے : “جو شخص اپنے حزب ( رات کی تلاوت یا قیام) سے سو گیا، اور وہ فجر اور ظہر کے درمیان اسے پورا کرلے، تو اللہ تعالیٰ اس کو وہی اجر عطا فرماتا ہے جیسا رات میں ادا کرنے کا تھا۔”

ابراہیم النخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “صحابہ کرام میں سے اگر کسی کا قرآنی حزب رات کو رہ جاتا، تو دن میں اس کی قضا کرتے ، یا اگلی رات میں پچھلی رات کی تلاوت بھی ساتھ ادا کرتے۔ بعض تو ناغے کی تلافی کے لیے اگلے دن پہلے سے زیادہ قرآن پڑھا کرتے تھے۔”

سلف صالحین یومیہ حزب رہ جانے پر بے چین :

قرآن مجید کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ جو شخص قرآن کو اپنا رفیق بنا لیتا ہے، اس سے انسیت اختیار کرتا ہے، تو پھر جب کبھی کسی وجہ سے قرآن کی تلاوت چھوٹ جاتی ہے تو وہ دل سے بے چین اور غمگین ہو جاتا ہے۔

یہی کیفیت سلف صالحین رحمہم اللہ کی تھی، جو اگر ایک دن بھی اپنا قرآن کا حصہ (حزب) نہ پڑھ پاتے تو بہت پریشان ہو جاتے۔

ابو داود الحفری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں محدث و زاہد کرز بن وبرہ رحمہ اللہ (وفات 180 ہجری) کے پاس گیا، تو دیکھا وہ زار و قطار رو رہے ہیں۔ پوچھا: “کس بات پر رو رہے ہیں؟” تو فرمایا: “میرا دروازہ بند ہو گیا، میرا پردہ اٹھ گیا، میرا راز فاش ہو گیا ! گزشتہ رات میں اپنا قرآنی حزب (حصہ) نہیں پڑھ سکا، اور یہ میرے کسی گناہ کا نتیجہ ہے۔ اللہ نے مجھ سے تلاوت کی توفیق چھین لی۔ مجھے نہیں معلوم وہ کون سا گناہ تھا جس کی سزا یہ ملی!”

ابو اسید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” گزشتہ رات میرا قرآن کا ورد ، یعنی سورہ البقرہ، چھوٹ گیا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے ”انا للہ وانا الیہ راجعون” پڑھا۔ پھر جب سویا، تو خواب میں دیکھا کہ ایک گائے مجھے کچل رہی ہے!”

یہ ان کے دل پر قرآن سے دوری کا اثر تھا، اور وہ اسے اپنی کوتاہی و گناہ کا نتیجہ سمجھتے تھے۔

تلاوت قرآن کا معمول کیسے بنایا جائے؟

جب کوئی شخص قرآن کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہتا ہے تو ابتدا میں یہ کام مشکل لگتا ہے۔ لیکن جو شخص مستقل مزاجی سے اس پر عمل کرے، وہ قرآن سے انسیت پیدا کر لیتا ہے، یہاں تک کہ وہ تلاوت اس کے لیے روح کی غذا بن جاتی ہے۔

سلف صالحین فرماتے ہیں: ” قرآن کا ورد (روزانہ تلاوت) پہلے دن پہاڑ چڑھنے جیسا مشکل لگتا ہے، دوسرے دن یہ بوجھ آدھا ہو جاتا ہے، تیسرے دن اور بھی آسان ہو جاتا ہے، اور چوتھے دن وہ غذا بن جاتا ہے، جس کی غیر موجودگی انسان کو تکلیف دیتی ہے !”

نفاق کی علامت :

تابعین فرماتے ہیں کہ جس پر قرآن کی تلاوت بوجھ محسوس ہو ، وہ نفاق کی علامت ہے۔

تابعی ابو الجوزاء رحمہ اللہ کے مطابق، منافق کے لیے پتھر اٹھانا آسان ہے، مگر قرآن پڑھنا مشکل۔ ہمیں اپنے دلوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہمارا حال بھی ایسا تو نہیں؟

قرآن مکمل کرنے کی مدت :

کم از کم 3 دن ( نبی ﷺ کی اجازت کے مطابق)

زیادہ سے زیادہ: 40 دن، اس سے زائد نہ ہو (الا کسی شرعی عذر کی صورت میں)

اکثر صحابہ سات دن میں مکمل قرآن پڑھا کرتے تھے:

* 10 دن تین سورتیں البقرہ، آل عمران، النساء

* 20 دن پانچ سورتیں

* 30 دن سات سورتیں

* 40 دن نو سورتیں

* 50 دن گیارہ سورتیں

* 60 دن تیرہ سورتیں

* 70 دن سورۃ ق سے الناس تک

سات دن میں تلاوت قرآن مکمل کرنے کے فوائد :

* سلف صالحین کی سنت پر عمل ہوتا ہے۔

* یادداشت مضبوط ہوتی ہے ، حفاظ کے لیے خاص مفید۔

* سورت کے اختتام پر رکنے سے تلاوت کا ادب بھی ادا ہوتا ہے۔

نصیحت :

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “کل کروں گا” اس سے بچ جاؤ یہ شیطانی فریب ہے، آج ہی سے آغاز کرو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو مضبوطی سے تھام لو، ورنہ وہ اونٹ کی طرح تیزی سے چھوٹ جائے گا۔

مسائل طہارت اور یومیہ تلاوت قرآن :

بغیر وضو کے قرآن پڑھنا (زبانی):

اگر انسان کا وضو نہیں ( حدث اصغر ) اور وہ قرآن زبانی تلاوت کرنا چاہتا ہے ، تو ایسا کرنا جائز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور صحابہ کرام سے یہ عمل ثابت ہے کہ انہوں نے بغیر وضو زبانی قرآن پڑھا۔

بغیر وضو کے مصحف کو ہاتھ لگانا:

جمہور علماء اور ائمہ (صحابہ، تابعین، ائمہ اربعہ ) کا یہی موقف ہے کہ بغیر وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگانا جائز نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بھی یہی ہے کہ ” قرآن کو صرف پاک آدمی ہی چھوئے۔”

اگر موبائل یا سکرین پر قرآن پڑھا جا رہا ہو ، تو وہ ہاتھ لگانا جائز ہے ، کیونکہ وہ براہ راست مصحف نہیں۔

حالت جنابت میں قرآن پڑھنا:

جنبی شخص (جس پر غسل فرض ہے ) نہ قرآن کو ہاتھ لگا سکتا ہے ، نہ زبانی تلاوت کر سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ثابت ہے کہ وہ حالت جنابت میں قرآن نہیں پڑھتے تھے۔ اگر تلاوت کرنی ہو، تو غسل کے بعد کی جائے۔

حائضہ عورت کا قرآن پڑھنا:

حائضہ عورت قرآن کو ہاتھ نہیں لگا سکتی، لیکن بغیر ہاتھ لگائے ( زبانی یا موبائل / کپڑے سے پکڑ کر) تلاوت کر سکتی ہے۔ یہ اجازت اس لیے ہے کہ وہ اپنی حالت کو فوراً ختم نہیں کر سکتی، جیسے کہ جنبی شخص کر سکتا ہے۔

تلخیص و تحریر : عبد المعز وحید