سلوة المؤمن عند أذى الخلق : لوگوں کی طرف سے آنے والی تکالیف پر مومن کا رد عمل

وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الۡبَغۡیُ ہُمۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿۳۹﴾

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَ اَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾

وَ لَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ؕ۴۱﴾

یہ بہت بڑے  مسائل میں سے ہے کہ جب انسان دوسروں کے ساتھ رہتا ہے  تو اسے بہت سارے لوگوں کی طرف سے آنے والی تکالیف کو برداشت کرنا پڑتا ہے  یا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں پہلے سے یہ خبر دے دی  کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ رہے گا اسے لازماً تکالیف ومصائب کا سامنا کرنا پڑے گا  جیسا کہ

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 ”وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے“(سنن ابنِ ماجہ : 4032،صحیح)

اسی لیے ایک کافر جو الله تعالیٰ کو ماننے والا نہیں ہے اس کا رد عمل اور بندہ مؤمن کے رد عمل میں فرق ہونا چاہیے ، کیونکہ بندہ مؤمن کا آخرت پر یقین ، اپنے ایمان ، توکل اور توحید کی وجہ سے رد عمل باکل مختلف ہوتا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیه رحمه الله فرماتے ہیں :

انسان کو پہنچنے والی مصائب کی دو اقسام ہیں:

پہلی قسم: وہ جن میں بندے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، جیسے بیماریاں اور دیگر آسمانی آفات۔ اس قسم پر صبر کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے کیونکہ بندہ اس میں اللہ کے فیصلے اور تقدیر کو دیکھتا ہے، اور یہ سمجھتا ہے کہ اس میں لوگوں کا کوئی دخل نہیں۔ اس لیے یا تو وہ مجبوراً صبر کرتا ہے یا خوش دلی سے۔

دوسری قسم: وہ مصیبتیں جو بندے کو دوسروں کے عمل سے پہنچتی ہیں، جیسے اس کے مال، عزت یا جان کو نقصان پہنچے۔ اس قسم پر صبر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ نفس اسے تکلیف دینے والے کو محسوس کرتا ہے اور ظلم کو ناپسند کرتے ہوئے انتقام کا خواہش مند ہوتا ہے۔ اس قسم کی مصیبت پر صرف انبیاء اور صدیقین ہی صبر کر سکتے ہیں۔

(قاعدۃ فی الصبر لابن تیمیه)

مصائب و تکالیف پہنچنے پر ایک مسلمان کا طرزِ عمل:

امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب قاعدۃ فی الصبر میں اور ابنِ قیم رحمه الله نے منازل السائرین کی شرح کرتے ہوئے یہ بیان کیا کہ جب بندہ مؤمن کو دوسرے لوگوں کی طرف سے آلام ومصائب پہنچیں تو وہ کن چیزوں کو مدِنظر رکھے :

 پہلی بات:

سب سے پہلا قدم جب کسی انسان کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ پیش آ جائے جو ظلم و زیادتی والا ہو تو انسان اس وقت اپنے ایمان بالقدر کو مضبوطی سے پکڑ لے کہ یہ پریشانی و تکلیف ایسے ہی میرے مقدر میں تھی. کیونکہ جب بندہ تقدیر پر ایمان کی طرف نظر دوڑاتا ہے تو اسے یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ جس طرح سردی کے بعد گرمی آتی ہے اور ان دونوں کی شدت کو ہمیں برداشت کرنا ہوگا باکل اسی طرح اللہ نے یہ میرے لیے مقدر بنایا ہے پھر وہ اس تکلیف پر واویلا نہیں کرتا ، جزع فزع نہیں کرتا ، بلکہ تقدیر پر ایمان کی وجہ سے خاموش ہوجاتا ہے.

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

بندے کو اس صبر پر مدد دینے والی یہ چیز بھی ہیں:

کہ وہ دیکھے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی بندوں کے اعمال، ان کی حرکات و سکنات اور ان کے ارادوں کا خالق ہے۔ جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے وہ کبھی نہیں ہوتا۔ دنیا کے اوپر اور نیچے کوئی ذرہ بھی اس کے حکم اور مشیئت کے بغیر حرکت نہیں کرتا، بندے محض ایک آلہ ہیں، لہٰذا اس ذات کو دیکھو جس نے انہیں تم پر مسلط کیا ہے، ان کے فعل کو مت دیکھو، یہ چیز تمہیں غم اور پریشانی سے نجات دے گی۔

اسی طرح تقدیر کے ساتھ توکل بھی شامل ہے جیسا کہ ابنِ قیم رحمه الله فرماتے ہیں:

والتوكل من أقوى الأسباب التي يدفع بها العبد ما لا يطيق من أذى الخلق وظلمهم وعدوانهم

توکل ان سب سے مضبوط اسباب میں سے ہے جن کے ذریعے بندہ مخلوق کی ایسی اذیت، ظلم اور زیادتی کو دور کرتا ہے جو وہ خود برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتا پھر بندہ اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہے، اس سے مدد طلب کرتا ہے، اس کے حکم پر راضی رہتا ہے، اس کے وعدے پر بھروسہ کرتا ہے، اور یہ یقین رکھتا ہے کہ جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے وہ کبھی نہیں ہوتا۔

دوسری بات:

اپنے نفس کو ملامت کرنا ، گناہوں کو دیکھنا اور یہ سمجھنا کہ اللہ نے تم پر انہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے مسلط کیا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد الٰہی ہے:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ﴾ (الشوریٰ: 30)

“اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کیے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے، اور وہ بہت سی چیزوں کو معاف فرما دیتا ہے۔”

اسی طرح جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو احد کے موقع پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَـٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ”(سورۃ آل عمران: 165)

اور کیا جب تمھیں ایک مصیبت پہنچی کہ یقیناً اس سے دگنی تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا یہ کیسے ہوا ؟ کہہ دے یہ تمھاری اپنی طرف سے ہے، بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

سلف صالحین میں یہ بات بڑی عام تھی جیسا کہ ابن سعد رحمه الله نے اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی الله عنھما کے بارے ذکر کیا ہے:

ابن ابی ملیکہ رحمه الله فرماتے ہیں:

ان أسماء بنت ابی بکرالصدیق کانت تصدع فتضع یدھا علی راسھا وتقول بذنبي وما یغفرہ الله اکثر

“سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا کو جب سر میں درد ہوتا تھا، تو وہ اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر کہتیں: یہ میرے گناہوں کی وجہ سے ہے، اور اللہ جو معاف کرتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔”

امام فضیل بن عیاض رحمه الله فرماتے ہیں:

“إني لأعصي الله فأعرف ذلك في خلق حماري وخادمي وإمراتي”

“میں سمجھتا ہوں کہ جب مجھ سے اللہ کی نافرمانی سرزد ہوتی ہے، تو اس کا اثر میں اپنی سواری ، خادم اور اپنی بیوی میں محسوس کرتا ہوں”(یعنی ان کا میری اطاعت میں کوتاہی کرنا ، میری بات نہ ماننا)۔

مرہ حمزانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

شریح رحمہ اللہ کے ہاتھ پر پھوڑا نکلا ہوا تھا ، میں نے اسے دیکھ کر ان سے پوچھا کہ آپ کے ہاتھ پر پھوڑا نکلا ہوا ہے تو انہوں نے فرمایا:

(فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ)

«یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کیے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے، اور وہ بہت سی چیزوں کو معاف فرما دیتا ہے»

شیخ الاسلام ابن تیمیه رحمه الله فرماتے ہیں:

اگر بندہ یہ دیکھے کہ جو بھی ناگوار چیز اسے پہنچ رہی ہے وہ اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے، تو وہ دوسروں کی مذمت اور شکایت کرنے کے بجائے اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار میں مشغول ہو جائے گا۔

اور اگر تم دیکھو کہ کوئی بندہ لوگوں کی برائی کرتا ہے جب وہ اسے تکلیف پہنچائیں، اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرنے اور استغفار کرنے کی طرف رجوع نہیں کرتا، تو جان لو کہ اس کی مصیبت حقیقت میں بہت بڑی ہے۔

 لیکن اگر وہ توبہ کرے، استغفار کرے اور کہے کہ یہ میرے گناہوں کی وجہ سے ہے، تو یہ مصیبت اس کے لیے ایک نعمت بن جائے گی.(انتھی کلامه)

سیدنا علی رضی الله عنه کا معروف قول ہے:

«لا يرجون عبد إلا ربه، ولا يخافن عبد إلا ذنبه »

’’بندے کو اپنے رب کے سوا کسی سے امید نہیں رکھنی چاہیے اور اپنے گناہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔‘‘

اور ایک قول یہ بھی ہے:

’’کوئی مصیبت گناہ کے بغیر نازل نہیں ہوتی اور کوئی مصیبت توبہ کے بغیر دور نہیں ہوتی۔‘‘

یتسری بات:

بندے کو اللہ کی طرف سے پہنچنے والے اس بہترین اجر کو دیکھنا چاہیے جس کا وعدہ اللہ نے معاف کرنے اور صبر کرنے والوں کے لیے کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾ (الشوریٰ: 40)

سیدنا عمرو بن العاص رضی الله عنه فرماتے ہیں:

“إني لا أصبر على الكلمة، هي أشد من القبض على الجمر”

کہ کبھی کبھار میرے لیے زبان سے نکلی ہوئی ایک بات اتنی تکلیف دہ اور شدید ہوتی ہے کہ میرے لیے اس پر صبر کرنا، انگاروں کو ہاتھ میں پکڑنے سے بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

تکالیف پر صبر کرنے میں چند معاون امور:

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کچھ امور ذکر کیے ہیں جن کو سامنے رکھ کر بندہ مؤمن کے لیے صبر کرنا آسان ہو جاتا ہے، فرماتے ہیں :

أن يعلم أنه إن صبر فالله ناصره ولابد، فالله وكيل من صبر، وأحال ظالمه على الله، ومن انتصر لنفسه وكله الله إلى نفسه، فكان هو الناصر لها، فأين من ناصره الله خير الناصرين إلى من ناصره نفسه أعجز الناصرين وأضعفه؟

«بندہ مؤمن کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اگر وہ صبر کرے گا تو اللہ اس کا مددگار ہوگا اور یہ بات یقینی ہے، کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کا ولی ہے اور ان کے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے، جو شخص اپنے آپ کے لیے انتقام لیتا ہے، اللہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے، اور وہ خود ہی اپنی مدد کرتا ہے، پھر اللہ کی مدد سے بہتر مدد کرنے والا کون ہو سکتا ہے، جب کہ وہ اپنے آپ کی مدد کرنے والے سے زیادہ عاجز اور کمزور ہے؟”»

جیسا کہ معروف حدیث ہے:

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سکوت پر تعجب اور تبسم فرماتے رہے لیکن جب وہ آدمی حد سے ہی آگے بڑھ گیا تو سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی کسی بات کا جواب دیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی میں وہاں سے کھڑے ہوگئے جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پیچھے سے جا کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے اور جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ غصہ میں آ کر کھڑے ہوگئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری جانب سے اسے جواب دے رہا تھا اور جب تم نے اسے جواب دیا تو درمیان میں شیطان آگیا اس لئے میں شیطان کی موجودگی میں نہ بیٹھ سکا۔
پھر فرمایا ابوبکر! تین چیزیں برحق ہیں:

(١) جس بندے پر ظلم ہو اور وہ اللہ کی خاطر اس پر خاموشی اختیار کرلے اللہ اس کی زبردست مدد ضرور فرماتا ہے۔

(٢) جو آدمی صلہ رحمی کے لئے جود و سخا کا دروازہ کھولتا ہے اللہ اس کے مال میں اتنا ہی اضافہ کرتا ہے۔

(٣) اور جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے تاکہ اپنا مال بڑھا لے اللہ اس کی قلت میں اور اضافہ کردیتا ہے

دوسرا مشھد:

صبر کے ساتھ جس قدر ہوسکے بندہ مؤمن انتقام کے ارادے کو ترک کر دے ، شیخ الاسلام رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
یہ جاننا ضروری ہے کہ اگر انسان اپنے نفس کو انتقام لینے اور جواب دینے میں مشغول کرتا ہے تو اس کا وقت ضائع ہوجاتا ہے، اس کا دل منتشر ہو جاتا ہے اور اس کی ضروریات کی وہ چیزیں چھوٹ جاتی ہیں جنہیں واپس حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ شاید یہ اس مصیبت سے بھی زیادہ سخت ہے جو اس پر ان کی طرف سے آئی تھی، اگر وہ معاف کردے اور درگزر کرے تو اس کا دل اور جسم اپنی ضروریات کے لیے فارغ ہو جاتا ہے، جو کہ انتقام سے کہیں زیادہ اہم ہیں.

 یہ کہ انتقام اور اپنی طرف سے برائی کا بدلہ لینا اور خود کو کامیاب اور فاتح سمجھنا دراصل انسان کے لیے نقصان دہ ہے.

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا.

اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اذیتیں آئیں، اور آپ کا دکھ اللہ کے حقوق سے متعلق تھا، پھر بھی آپ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا.

یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سب سے زیادہ معزز، پاک اور بلند تھی، پھر بھی آپ نے انتقام نہیں لیا۔ تو ہم جیسے انسانوں کے لیے کیا جواز ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں اور عیوب کی وجہ سے اپنی ذات کے لیے انتقام لیں؟ دراصل ایک عقلمند انسان (مؤمن انسان) اپنی ذات کو اتنی اہمیت نہیں دیتا کہ وہ اس کے لیے انتقام لے، اور نہ ہی اس کی عزت و اہمیت اس قدر ہے کہ اس کے لیے انتقام ضروری سمجھا جائے۔

(اور جب انسان کو انتقام لینے کی لت پڑ جاتی ہے تو وہ لازماً دوسروں پر ظلم کرنے والا بن جاتا ہے).

شیخ الاسلام رحمه الله فرماتے ہیں:

جو شخص انتقام لینے کا عادی ہو اور صبر نہ کرے، وہ ضرور ظلم کا ارتکاب کرے گا، کیونکہ نفس کبھی بھی اپنے حق کے میزان پر راضی نہیں رہتا، نہ علم کے لحاظ سے اور نہ ارادے کے لحاظ سے اور کبھی کبھار یہ حق کے حدود سے آگے بڑھ جاتا ہے، کیونکہ غصہ انسان کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے یا کرتا ہے، اسے سمجھ نہیں پاتا، ایسے میں وہ جب مظلوم ہوتا ہے اور نصرت و عزت کی توقع رکھتا ہے، تو وہ ظالم بن کر بدل جاتا ہے، اور پھر اس کے سامنے ذلت و سزا آتی ہے۔

یہ انتقام نہ لینا دنیاوی معمالات میں ہے لیکن اگر دین کے معاملے میں تکلیف آتی ہے مثلاً کسی کو نماز پڑھنے کا کہا ، برائی سے روکا وغیرہ تو اس صورت میں انتقام تو قطعا نہیں بلکہ صبر کرنا واجب ہوتا ہے جیسا کہ شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
اگر اسے اللہ کے فیصلے پر، یا اللہ کی اطاعت کے حکم یا اس کی معصیت سے منع کرنے پر اذیت دی جائے، تو اس پر صبر کرنا ضروری ہے، اور اس کے لیے انتقام لینا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ اللہ کے لیے اذیت میں مبتلا ہوا ہے، اور اس کا بدلہ اللہ کے ہاں ملے گا۔

وكان نبينا الله إذا أوذي يقول: «يرحم الله موسى لقد أذوي بأكثر من هذا فصبر» ، وأخبر عن نبي من الأنبياء أنه ضربه قومه فجعل يقول: «اللهم اغفر لقومي فإنهم لا يعلمون»

اور جب ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اذیت میں مبتلا ہوتے تو فرمایا کرتے: “اللہ موسٰی پر رحم کرے، ان کو اس سے زیادہ اذیت دی گئی، پھر بھی انہوں نے صبر کیا۔” اور ایک نبی کے بارے میں روایت ہے کہ ان کی قوم نے انہیں مارا، تو وہ دعا کرتے رہے: “اے اللہ، میرے قوم کو معاف فرما، کیونکہ وہ نہیں جانتے۔”

معاف کرنا یقیناً مشکل کام ہے لیکن اگر انسان یہ بات ذہن میں رکھے کہ الله تعالیٰ کے ہاں ایک قانون ہے :

الجزاء من جنس العمل

جیسا کہ شیخ الاسلام رحمه الله فرماتے ہیں:

یہ جاننا ضروری ہے کہ جزا عمل کے مطابق ہوتی ہے، اور انسان خود بھی ظالم اور گناہگار ہے، جو شخص لوگوں کو معاف کر دیتا ہے، اللہ بھی اسے معاف کرتا ہے، اگر انسان یہ گواہی دے کہ اس کا معاف کرنا، درگزر کرنا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا، باوجود اس کے کہ وہ اس کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں، اس بات کا سبب بنے گا کہ اللہ بھی اس سے اسی طرح معاملہ کرے گا، یعنی اس کے گناہوں کو معاف کرے گا، اس سے درگزر کرے گا اور اسے اس کی غلطیوں کے باوجود احسان کرے گا، اور اس کے صبر کو آسان بنا دے گا۔ عقلمند کے لیے یہی فائدہ کافی ہے۔

احسان کا درجہ:

ان سب چیزوں سے بڑھ کر بھی ایک معاملہ ہے ، یعنی اپنے نفس پر صبر کرنا ، انتقام نہ لینا ، معاف بھی کردینا ، پھر اس کے اوپر کا درجہ احسان کا درجہ ہے ، یعنی اس کے ساتھ اچھا سلوک بھی کرنا۔

احنف بن قیس رحمه الله فرماتے ہیں :

“لست بحلیم لكني أتحالم”

(میں بردبار ، حلیم نہیں ہوں مگر میں اپنے نفس پر جبر کرکے حلم (بردباری) اختیار کرتا ہوں).

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی الله عنه فرماتے ہیں:

لا تكونوا إمعة تقولون: إن احسن الناس أحسنا وإن ظلموا ظلمنا ولكن وطنوا انفسكم إن احسن الناس ان تحسنوا وإن أساؤوا فلا تظلموا

”امّعہ نہ بنو، (وہ اس طرح کہ) تم کہو: اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے، اور اگر انہوں نے ظلم کیا تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ تم اپنے آپ سے عزم کرو کہ اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو تم بھی اچھا سلوک کرو گے اور اگر انہوں نے برا سلوک کیا تو تم ظلم نہیں کرو گے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

ليس الواصل بالمكافئ، ولكن الواصل الذي إذا قطعت رحمه وصلها”.

کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے.(رواہ البخاری)

سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں:

کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اﷲ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں وہ قطع رحمی کرتے ہیں میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں وہ مجھ سے جہالت (لڑائی) کرتے ہیں اور میں ان سے برداشت اور بردباری سے کام لیتا ہوں .

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر بات ایسی ہی ہے جیسے تم کہہ رہے ہو تو گویا تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو۔ اور جب تک تم اسی حالت پر قائم رہو گے اللہ کی طرف سے ان کے خلاف ایک مدد کرنے والا تمہارے ساتھ ہمیشہ موجود رہے گا۔“

[صحيح الادب المفرد/حدیث: 37] (صحيح)

حسن بصری رحمه الله فرماتے ہیں:

“المؤمن حلیم لا يجهل وإن جُهل عليه، على حلمه لا يظلم، وإن ظلم غفر، وإن قطع وصل، وإن بخل عليه صبر.”

“مومن بردبار ہوتا ہے، وہ جہالت سے پیش نہیں آتا چاہے اس کے ساتھ جہالت سے پیش آیا جائے، اور اپنی بردباری کی حالت میں ظلم نہیں کرتا، اور اگر اس پر ظلم کیا جائے تو معاف کرتا ہے، اور اگر اس سے تعلق توڑا جائے تو وہ تعلق جوڑتا ہے، اور اگر اس پر بخل کیا جائے تو وہ صبر کرتا ہے۔”

سفیان ثوری رحمه اللہ فرماتے ہیں :

ایک آدمی نے سیدنا علی بن حسین رحمہ اللہ سے کہا کہ فلاں نے آپ کو برا بھلا کہا اور آپ کی غیبت کی ہے۔ انھوں نے جواب دیا: “اس نے جو کچھ کہا، اگر وہ درست ہے تو اللہ مجھے معاف فرمائے. اور میرے بارے میں جو کہا ہے اگر وہ غلط ہے، تو اللہ اس کو معاف فرمائے!”

شیخ الاسلام ابن قیم رحمہ اللہ نے یہ بات بھی ذکر کی ہے

کہ جب کوئی آپ کو تکلیف پہنچاتا ہے تو پھر آپ دیکھیں کہ یہ بھی ایک لحاظ سے یا کئی اعتبارات سے اللہ تعالیٰ کی آپ پر نعمت ہے فرماتے ہیں:

1 – پہلا اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی آپ پر نعمت ہے آپ اس بات کو سوچیں کہ دنیا میں دو ہی طرح کے لوگ ہیں ایک ظالم ہے اور ایک مظلوم ہے ایک غلط رویہ اختیار کرنے والا ہے اور ایک اچھا رویہ اختیار کرنے والا ہے

ایک غلط بات کرنے والا ہے، دوسرا معاف کرنے والا ہے، ایک ظلم کرنے والا ہے اور ایک مظلوم ہے، تو آپ پر اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظالم بھی نہیں بنایا، مظلوم بنایا ہے، اگر آپ ظالم ہوتے تو آپ پر وہ ساری آیات اور آحادیث جو ظلم کے خلاف ہیں وہ آپ پر منطبق ہوتے ہیں،اب آپ مظلوم ہیں تو آپ کو وہ ساری آحادیث اور آیات جو اللہ تعالیٰ نے آپ ایک مظلوم کے بارے میں بتائی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بتائی ہیں، اب وہ آپ کے سامنے ہونی چاہئے، یعنی آپ ظالم نہیں ہیں، مظلوم ہیں۔

2 – دوسری بات جو بندہ مومن کو یاد رکھنی چاہئے کہ یہ تو اس کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے،کسی انسان کو کوئی بھی مصیبت اور تکلیف پہنچتی ہے، کوئی بھی پریشانی پہنچتی ہے تو وہ اس پر کیا کرتا ہے؟ صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پریشانی کو اس مصیبت کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دیتے ہیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے:

کہ مومن کو کوئی ہم، کوئی غم، کوئی پریشانی، کوئی تکلیف، کوئی دکھ بھی پہنچتا ہے حتیٰ کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس بندے کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔

ایک اور حدیث میں آتا ہے:

رسول اللہﷺنے فرمایا: قیامت کے دن جب اہلِ ابتلا کو ثواب دیاجارہا ہوگا تو اہلِ عافیت یہ تمنا کریں گے کہ کاش دنیا میں اُن کی کھالوں کو قینچیوں سے کاٹا جاتا‘‘ (سنن ترمذی:2402)

(اس سے بڑی بات انسان کے لیے یہ ہے کہ جب کوئی شخص آپ پر ظلم و زیادتی کررہا ہو تو گویا وہ اپنی نیکیاں آپ کو دے رہا ہے کیونکہ قیامت کے دن آپ کو ایک ایک نیکی کی ضرورت ہو گی )

صحیح مسلم کی ایک معروف حدیث ہے:

سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: ”کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ مفلس کسے کہتے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے یہاں مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس درہم و دینار اور ضروری سامان زندگی نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پہ تہمت باندھی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، اور کسی کو مارا ہو گا، پھر اسے سب کے سامنے بٹھایا جائے گا اور بدلے میں اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، پھر اگر اس کے ظلموں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس پر رکھ دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا“

عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے سامنے ایک شخص کی برائی کی گئی تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:

تم الله تعالیٰ سے قیامت کے دن اس حال میں ملاقات کرو کہ تم پر جوظلم ہوا ہے اس کا اللہ تعالیٰ سے پورا پورا بدلہ لو تو لوگوں کے ظلم پر صبر کرو اور خاموشی اختیار کیا کرو ۔

خلاصہ:

جب انسان ان تمام باتوں پر عمل کرلیتا ہے ، صبر کرتا ہے ، انتقام نہیں لیتا ، اوراگر وہ معاف کر دے اور بھلائی کرے تو اس کے نتیجے میں اس کے دل میں اپنے بھائیوں کے لیے سلامتی پیدا ہوگی، اور اس کا دل حسد، کینہ، انتقام کی خواہش اور بدی کے ارادے سے پاک ہو جائے گا،اسے معاف کرنے کی ایسی مٹھاس نصیب ہوگی جو فوری اور طویل مدت میں اس کے لیے فائدہ مند ہوگی، اور یہ فائدہ انتقام کے ذریعے حاصل ہونے والے فائدے سے کئی گنا زیادہ ہوگا۔

”جیسا کہ ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی کو تین دن مسلسل جنت کی بشارت دی ، جس پر ایک صحابی نے ان سے جاکر استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا: کہ میں کوئی رات ایسی نہیں گزارتا جس میں میرے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں کوئ حسد ، بغض و کینہ ہو “

جب بندہ ایسا کرلے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں شامل ہو جائے گا:

“اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے”

پھر وہ اللہ کا محبوب بن جائے گا، اس کا حال ایسا ہوگا جیسے کسی سے ایک درہم لے لیا گیا ہو اور اس کے بدلے میں اسے ہزاروں دینار عطا کر دیے گئے ہوں، تب وہ اس انعام پر بے حد خوش ہوگا جو اللہ نے اس پر کیا، اور یہ خوشی سب سے بڑی خوشی ہوگی۔

ابنِ قیم رحمه الله فرماتے ہیں:

”جب کس بندہ مؤمن کا دل الله تعالیٰ کی محبت سے ، اس کے ساتھ اخلاص و انابت سے بھر جاتا ہے تو دنیاوی مشکلات اور لوگوں کی تکالیف بھی اسے متاثر نہیں کرتیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر چیز اللہ کی رضا کے تابع ہے۔”

تحریر و تلخیص : أنس بن ہارون