صفتِ حلم و بردباری

نفس پر غصے و ناراضی کی حالت میں قابو اور کنٹرول رکھنا حِلم و بردباری ہے، اضداد میں یہ غیض و غضب کے متضاد کے طور پر بھی مستعمل ہے اور حلیم و بردبار اسے کہا جاتا ہے جو کسی کی بد اخلاقی و برے رویے کے مقابلے میں تحمل، نرمی اور اچھا برتاؤ رکھے، قدرت و طاقت کے باوجود اپنے غصے کو دبا جائے۔

اللہ تعالی نے اسے متقین کی صفات میں ذکر کیا ہے، ارشاد ہے :

وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ. الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ.

”اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو اپنے رب کی جانب سے بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے برابر)ہے، وہ ایسے متقین کے لیے تیار کی گئی ہے کہ جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں، غصے کو پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ تعالی نیکی کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔“(1)

سہل بن معاذ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص غصے پر قابو پاتا ہے حالانکہ وہ اس (غصے) کو نکال بھی سکتا ہے تو اللہ تعالی روزِ قیامت اسے ساری مخلوق کے سامنے لا کر اسے اپنی پسند کی حور اختیار کرنے کا اختیار دیں گے۔“(2)

اسی طرح کسی کی برائی میں جوابا سختی و درشتی کی بجائے نرمی و راست بازی کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا گیا، کیوں کہ یہ رویہ معاملے کو بگڑنے سے بچا لیتا ہے اور کبھی تو بڑی دشمنی کو دوستی میں تبدیل کر دیتا ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں :


وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ

”اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ برائی کو اچھے طریقے سے ہٹائیں، تو اچانک وہ شخص جس کی آپ کے ساتھ دشمنی ہے وہ، ایسا ہوگا جیسے وہ آپ کا دلی دوست ہے۔“(3)

اللہ تعالی اس صفت کو پسند فرماتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اشج عبد القیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا :

إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ.

”آپ کی دو صفتیں اللہ تعالی کو بہت محبوب ہیں : بردباری وتحمل اور عقل مندی۔“(4)

بسا اوقات یہ صفت جبلی و فطری ہوتی ہے کہ عادتا ہی کوئی انسان نرم مزاج اور ٹھنڈی طبعیت کا مالک ہوتا ہے اور کبھی اسے پورے شعور و جہدِ پیہم کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ، وَإِنَّمَا الْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ، مَنْ يَتَحَرَّ الْخَيْرَ يُعْطَهُ، وَمَنْ يَتَّوَقَّ الشَّرَّ يُوقَهُ.

”علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے اور حلم و بردباری کوشش کرنے سے آتی ہے، جو شخص خیر کی کوشش کرتا ہے اسے خیر دے دی جاتی ہے اور جو شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچالیا جاتا ہے ۔“(5)

اگر کوئی داعی و مبلغ ہو تو اسے بالخصوص تحمل و بردباری کی صفت اپنانی چاہیے کیونکہ دعوتِ دین کا راستہ مختلف رکاوٹوں اور نت نئی مخالفتوں سے عبارت ہے، انبیاء اسی لیے اخلاقِ حسنہ اور تحمل و بردباری کے اعلی درجات پر فائز تھے کیونکہ انہیں بطورِ مصلح معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنا تھا، اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ کی اس صفت کی طرف یوں اشارہ فرمایا :

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ.

”اللہ کی طرف سے بڑی رحمت ہی کی وجہ سے تو آپ ان کے لیے نرم ہوگئے ہیں اور اگر آپ بد خلق، سخت دل ہوتے تو یقینا وہ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے، لہذا ان سے درگزر کریں، ان کے لیے بخشش کی دعا کریں اور کام میں ان سے مشورہ کریں، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر توکل کریں، بے شک اللہ تعالی توکل کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔ (6)

قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں :

إي والله، لطهره الله من الفظاظة والغلظة، وجعله قريبا رحيما رؤوفا بالمؤمنين.

”اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو بد کلامی و بد اخلاقی اور سختی و درشتی سے پاک کر دیا اور آپ کو مومنوں کے قریب، ان سے شفقت و رحم کرنے والا بنایا ہے۔“ (7)

اسی لیے علم کے ساتھ حلم و بردباری ہونا نہایت ضروری ہے، امام عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مَا أَوَى شَيْءٌ إِلَى شَيْءٍ أَزْيَنُ مِنْ حِلْمٍ إِلَى عِلْمٍ.

”کسی بھی دو چیزوں کے باہم مل جانے سے اس قدر حسین امتزاج پیدا نہیں ہوتا جس قدر علم کے ساتھ حلم و بردباری مل جانے سے ہوتا ہے۔“ (8)

وما توفیقی الا باللہ.

حوالہ جات :


(1)۔ آل عمران : 133، 134
(2)۔ سنن ابی داود : 2777، سنن الترمذی : 2021 وسندہ حسن.
(3)۔ فصلت : 34
(4)۔ صحیح مسلم : 17
(5)۔ رواه الطبراني (الأوسط : ٣/ ١١٨) وغيره مرفوعا بأسانيد كلها ضعیفة وحسنه ابن حجر ثم الألباني، وروى الهناد فى الزهد (٢/ ٦٠٥) وابن أبي الدنيا فى الحلم (٤٧) عن أبي الدرداء موقوفا وسنده منقطع والشطر الأول منه رواه ابن أبي شيبة فى المصنف (٥/ ٢٨٤) عن ابن عمر موقوفا ورجاله ثقات.
(6)۔ آل عمران : 159
(7)۔ تفسیر طبری : 6/ 186 وسندہ صحیح.
(8)۔ سنن الدارمی : 596 ورجالہ ثقات.

کتبہ؛ حافظ محمد طاہر