سجدہ تلاوت کی مشروعیت
سجدہ تلاوت کی مشروعیت سجدہ تلاوت قرآن و سنت سے ثابت ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَ اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے وہ سجدہ نہیں کرتے۔ (سورۃ الانشقاق: ۲۱) سجدہ تلاوت قرآن و سنت سے ثابت، باعثِ اجر، اور شیطان کے لیے باعثِ حسرت ہے۔
سجدہ تلاوت کا حکم
جمہور محدثین اور فقہاء مذاہبِ ثلاثہ کے نزدیک سجدہ تلاوت کرنا مستحب اور سنت ہے، اس کے مستحب ہونے کی دلیل سیدنا زید بن ثابت سے مروی حدیث ہے کہ قرأت علی النبی ﷺ والنجم فلم یسجد فیھا میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس سورۃ النجم کی تلاوت کی اور آپ ﷺ نے اس پر سجدہ نہیں کیا (بخاری: ۱۰۷۲) اور اسی طرح سیدنا عمر نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل کی تلاوت کی اور سجدہ تلاوت پہ نیچے اتر کر سجدہ کیا پھر اگلا جمعہ آیا تو سجدہ تلاوت پہ سجدہ نہیں کیا اور کہا لوگو! ہمیں ان سجدوں کا حکم نہیں دیا گیا جو سجدہ کر لے وہ اجر کا مستحق اور جو سجدہ نہیں کرے گا اس پر گناہ نہیں۔ (بخاری: ۱۰۷۷)
سجدہ تلاوت کی فضیلت
اگرچہ محدثین و فقہاء کی عمومی رائے کے مطابق سنت ہے لیکن اس کا اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ اس سے شیطان کو تکلیف پہنچتی ہے اور کہتا ہے میری ہلاکت کہ ابن آدم کو سجدے کا حکم دیا گیا اور اس نے سجدہ کیا (مسلم: ۱۱۵ )
سجدہ تلاوت کی تعداد
صحیح حدیث کے مطابق سجودِ تلاوت کی تعداد ۱۵ ہے۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ، مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ (سنن ابی داؤد: ۱۴۰۱) سیدنا عمرو بن العاص ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ان کو قرآن مجید میں (۱۵) سجدے پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں اور دو سورۃ الحج میں ۔
وہ پندرہ مقامات درج ذیل ہیں:
1. إِنَّ ٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَيُسَبِّحُونَهُۥ وَلَهُۥ يَسۡجُدُونَ (سورۃ الأعراف: ۲۰۶)
2. وَلِلَّهِ يَسۡجُدُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ طَوۡعٗا وَكَرۡهٗا وَظِلَٰلُهُم بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأَصَالِ (سورۃ الرعد: ۱۵)
(مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۵۲/۲)
3. قَدۡ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَأَتَى ٱللَّهُ بُنۡيَٰنَهُم مِّنَ ٱلۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّقۡفُ مِن فَوۡقِهِمۡ وَأَتَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ (سورۃ النحل : ۲۶) (بیہقی، السنن الکبریٰ: ۳۱۴/۲)
4. وَيَخِرُّونَ لِلۡأَذۡقَانِ يَبۡكُونَ وَيَزِيدُهُمۡ خُشُوعٗا (سورۃ الإسراء: ۱۰۹) (مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۵۲/۲)
5. أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّۦنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءَادَمَ وَمِمَّنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوحٖ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡرَٰٓءِيلَ وَمِمَّنۡ هَدَيۡنَا وَٱجۡتَبَيۡنَآۚ إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُ ٱلرَّحۡمَٰنِ خَرُّوا۟ سُجَّدٗا وَبُكِّيٗا (سورۃ مريم: ۵۸) (صحیح البخاری: ۱۰۷۵)
6. أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَسۡجُدُ لَهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ وَٱلنُّجُومُ وَٱلۡجِبَالُ وَٱلشَّجَرُ وَٱلدَّوَآبُّ وَكَثِيرٞ مِّنَ ٱلنَّاسِۖ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ ٱلۡعَذَابُۗ وَمَن يُهِنِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن مُّكۡرِمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ (سورۃ الحج: ۱۸) (صحیح البخاری: ۱۰۲۱)
7. يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱرۡكَعُوا۟ وَٱسۡجُدُوا۟ وَٱعۡبُدُوا۟ رَبَّكُمۡ وَٱفۡعَلُوا۟ ٱلۡخَيۡرَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ (سورۃ الحج: ۷۷) (بیہقی، السنن الکبریٰ: ۳۱۷/۲)
8. وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱسۡجُدُوا۟ لِلرَّحۡمَٰنِ قَالُوا۟ وَمَا ٱلرَّحۡمَٰنُ أَنَسۡجُدُ لِمَا تَأۡمُرُنَا وَزَادَهُم نُفُورٗا (سورۃ الفرقان:۶۰) (سنن ابن ماجہ: ۱۰۵۵)
9. ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ النمل: ۲۶) (بیہقی، السنن الکبریٰ: ۳۱۴/۲)
10. إِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا۟ بِهَا خَرُّوا۟ سُجَّدٗا وَسَبَّحُوا۟ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ (سورۃ السجدۃ: ۱۵) (صحیح بخاری: ۸۹۱، صحیح مسلم : ۷۳۳)
11. قَالَ لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦۖ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡخُلَطَآءِ لَيَبۡغِي بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَقَلِيلٞ مَّا هُمۡۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّٰهُ فَٱسۡتَغۡفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّ رَاكِعٗا وَأَنَابَ (سورۃص: ۲۴) (سنن أبو داؤد: ۱۴۰۴، سنن ترمذی: ۵۷۹)
12. فَإِنِ ٱسۡتَكۡبَرُوا۟ فَٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُۥ بِٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَهُمۡ لَا يَسۡـَٔمُونَ (سورۃ فصلت: ۳۸) (صحیح بخاری: ۱۰۷۴)
13. فَٱسۡجُدُوا۟ لِلَّهِ وَٱعۡبُدُوا۟ (سورۃ النجم: ۶۲) (صحیح بخاری: ۱۰۷۰، صحیح مسلم: ۵۷۷)
14. وَإِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقُرۡءَانُ لَا يَسۡجُدُونَ (سورۃ الانشقاق: ۲۱) ((بیہقی، السنن الکبریٰ: ۳۷۵۸)
15. كَلَّا لَا تُطِعۡهُ وَٱسۡجُدۡ وَٱقۡتَرِب ( سورۃ العلق: ۱۹) (صحیح بخاری: ۱۰۷۱، صحیح مسلم: ۵۷۸)
سجدہ تلاوت کے اہم فقہی مسائل
1. نماز میں بھی سجدہ تلاوت جائز ہے (فرض و نفل دونوں میں) – (بخاری: 766، 768)
2. نماز کے علاوہ عام تلاوت میں بھی جائز ہے – (بخاری: 1071)
3. قاری اور سامع دونوں پر سجدہ مستحب ہے ( دیکھئے : بخاری: ۱۰۷۱، ۱۰۷۵ ؛ مسلم: ۵۷۸)
4. قبلہ رخ ہونا اور وضو کرنا بہتر ہے، مگر شرط نہیں (– بخاری: ۱۰۷۱
5. تکبیر کے ساتھ سجدہ جانا مسنون ہے، لیکن بغیر بھی جائز ہے البتہ نماز میں تکبیر کہی جائے گی – (فقہ السنہ، باب: سجود التلاوة)
سجدہ تلاوت میں عام سجدے کی دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں اس کے علاؤہ یہ دو دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں۔
1. اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِندَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ
اے اللہ! اس (سجدہ) کے ذریعہ میرے لیے اجر لکھ دے، میرے گناہ کم کر دے، اور اسے میرے لیے ذخیرہ آخرت بنا، اور اسے مجھ سے اسی طرح قبول فرما جیسے تُو نے اپنے بندے داؤد علیہ السلام سے قبول کیا تھا۔” (سنن ترمذی : ۵۷۹، سنن ابن ماجہ : ۱۰۵۳ وحسنہ الالبانی)
2. سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ
“میرا چہرہ اُس ذات کے لیے سجدہ ریز ہوا جس نے اسے پیدا کیا،اور اس کے کان اور آنکھ کو اپنی قدرت اور قوت سے بنایا۔ پس بہت برکت والا ہے اللہ، سب سے بہترین پیدا کرنے والا۔ (مسلم: ۷۷۱)
کتبہ؛ شیخ عبدالوھاب سلیم