دل کا سکون حسن لظن بالله میں ہے
بسم الله، والصلاة والسلام علی رسول الله، اما بعد:
اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھنا انسان کے ذہنی سکون اور ایمان کے لیے ازحد ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اور اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو عذاب دے گا، اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو، جو اللہ کے متعلق برا گمان رکھتے ہیں۔” (سورہ الفتح: 6)
حسن ظن رکھنے کی مثال
ہم میں سے کوئی بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اس کے بارے میں بدگمانی کرے۔ اگر کوئی ہمیں جاہل، ظالم، یا جھوٹا سمجھتا ہے تو ہمیں یہ بہت ناگوار گزرتا ہے۔ اسی طرح، اللہ کے لئے اعلی مثال، اللہ تعالیٰ، جو تمام خوبیوں کا مالک ہے، اس کی صفات یا افعال کے بارے میں بدگمانی رکھنا کس قدر ناپسندیدہ ہو گا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنے خالق کی معرفت سے محروم ہے۔
بدگمانی کی صورتیں
1. صفاتِ الٰہی کے بارے میں بدگمانی
اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں غلط گمان رکھنا ایک بڑا جرم ہے۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا:
“بلکہ تم نے گمان کیا کہ اللہ تمہارے بہت سے اعمال سے بے خبر ہے، اور اسی گمان نے تمہیں ہلاک کر دیا اور تم خسارے میں پڑ گئے۔” (سورہ حشر: 12)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کافر یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کے خیالات نہیں جانتا، وہ صرف ظاہری افعال کا علم رکھتا ہے، اور یہی بدگمانی ان کے ہلاکت کا سبب بنی۔
2. افعال میں بدگمانی
بعض اوقات ہم مستقبل کے بارے میں ایسے خیالات رکھتے ہیں جو اللہ پر اعتماد کے منافی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
– اولاد کے متعلق یہ سوچنا کہ وہ بیمار ہو جائے گی۔
– مالی معاملات میں یہ فکر کہ کہیں رزق ختم نہ ہو جائے۔
– یا یہ اندیشہ کہ کوئی بڑی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔
یہ خیالات انسان کے دل میں بے چینی پیدا کرتے ہیں اور اللہ پر توکل کے منافی ہیں۔ اسی لیے سلف صالحین فرماتے تھے کہ توکل اصل میں حسن ظن کا ہی دوسرا نام ہے۔
احادیث
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا وہ میرے متعلق گمان رکھتا ہے۔” (صحیح بخاری و مسلم)
ایک اور روایت میں ہے:
“اگر وہ مجھ سے اچھا گمان رکھے گا تو میں اس کے لیے ویسا ہی ہوں گا، اور اگر برا گمان رکھے گا تو میں اس کے لیے ویسا ہی ہوں گا۔”
اقوالِ سلف
1. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“اللہ سے حسن ظن رکھنا مؤمن کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے، کیونکہ اللہ اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہے جیسا بندہ اس کے متعلق گمان رکھتا ہے۔”
2. سفیان الثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“اللہ سے حسن ظن رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ یقین رکھے کہ اللہ اس کے گناہوں کو معاف کرے گا اور اس پر رحم فرمائے گا۔”
عمار بن یوسف کہتے ہیں کہ انہوں نے حسن رحمہ اللہ کو وفات کے بعد خواب میں دیکھا اور پوچھا:
“آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟”
انہوں نے جواب دیا:
“خوش ہو جاؤ، اللہ کے بارے میں حسن ظن سے بہتر کوئی چیز نہیں دیکھی۔”
انبیاء کرام کے حسن ظن کی مثالیں
1. حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو سمندر کے کنارے فرعون کی فوج نے گھیر لیا تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
“ہرگز نہیں! میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔” (سورہ الشعراء: 62)
2. رسول اللہ ﷺ طائف کے موقع پر، جب آپ ﷺ پر ظلم کیا گیا، تو فرشتے نے عرض کی: “کیا آپ چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کو دو پہاڑوں کے درمیان کچل دیا جائے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو توحید پر عمل کریں گے۔”
3. حضرت یعقوب علیہ السلام جب حضرت یوسف علیہ السلام کے گم ہونے کے بعد تمام دروازے بند نظر آ رہے تھے، تب بھی انہوں نے فرمایا: “میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں۔” (سورہ یوسف: 86)
4. حضرت ایوب علیہ السلام اپنی اٹھارہ سالہ طویل بیماری کے دوران انہوں نے دعا کی: “مجھے بیماری نے چھو لیا ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔” (سورہ الانبیاء: 83)
5. حضرت زکریا علیہ السلام جب کوئی اولاد کی امید باقی نہ رہی تو انہوں نے دعا کی “اے میرے رب! مجھے کبھی تیرے سامنے دعا مانگتے مایوسی نہیں ہوئی۔” (سورہ مریم: 4)
موت کے وقت حسنِ ظن
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے کوئی اس حال میں فوت نہ ہو کہ اللہ سے حسن ظن نہ رکھتا ہو۔” (صحیح مسلم)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “اگر کسی شخص کی موت قریب ہو تو اسے اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بشارت دی جائے تاکہ وہ اللہ سے اچھا گمان رکھے۔ اور عام حالات میں اللہ سے ڈرایا جائے تاکہ وہ نیک اعمال کی جانب لپکے۔”
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “اگر کسی شخص کی موت قریب ہو تو اسے اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بشارت دی جائے تاکہ وہ اللہ سے اچھا گمان رکھے۔ اور عام حالات میں اللہ سے ڈرایا جائے تاکہ وہ نیک اعمال کی جانب لپکے۔”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ایک نوجوان ان کے پاس آیا اور ان سے کہا: آپ نے نبی ﷺ کی صحبت اختیار کی، بہترین خلافت کی اور اب شہادت پا رہے ہیں۔
ایک اور نوجوان نے کہا: آپ نے نبی ﷺ کی صحبت اختیار کی اور بہترین صحبت کی، پس وہ آپ سے راضی ہو کر دنیا سے گئے۔ پھر آپ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی صحبت اختیار کی اور بہترین صحبت کی، حتی کہ وہ آپ سے راضی ہو کر دنیا سے گئے۔ پھر آپ نے مسلمانوں سے بہترین صحبت کی تو جب آپ جائیں گے تو مسلمان آپ سے راضی ہوں گے۔
حسن ظن کے دو بڑے فوائد
1. غم اور پریشانی سے نجات اللہ پر حسن ظن رکھنے سے انسان دنیاوی غموں اور اندیشوں سے آزاد رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے:
“اے اللہ! میں تجھ سے غم اور پریشانی سے پناہ مانگتا ہوں۔”
2 . نیک اعمال کا جذبہ: جب بندہ اللہ سے اچھا گمان رکھتا ہے تو وہ نیک اعمال کرنے کی طرف راغب ہوتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ اس کی محنت کو ضائع نہیں کرے گا۔
تنبیہ
اللہ پر حسن ظن کا مطلب یہ نہیں کہ انسان گناہوں میں ڈوب جائے اور اللہ کی مغفرت پر بھروسہ کرے۔ سلف صالحین فرماتے ہیں:
“جو برا عمل کرتا ہے، وہ حقیقت میں اللہ سے بدگمان ہے۔”
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “مؤمن ہمیشہ اللہ سے اچھا گمان رکھتا ہے اور نیک اعمال کرتا ہے، جبکہ منافق برا گمان رکھ کر گناہ میں مشغول رہتا ہے۔”
حسن ظن کی دعا
سعید بن جبیر رحمہ اللہ یہ دعا کیا کرتے تھے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ التَّوْفِيْقَ لِمَحَابِّكَ مِنَ الْأَعْمَالِ وَصِدْقَ التَّوَكُّلِ عَلَيْكَ وَحُسْنَ الظَّنِّ بِكَ
“اے اللہ! میں تجھ سے تیرے پسندیدہ اعمال کی توفیق، تجھ پر سچے بھروسے، اور تجھ سے حسنِ ظن کی دعا کرتا ہوں۔”
اللہ ہمیں اپنے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان رکھنے اور اپنی رحمت و کرم سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
تحریر و تلخیص : عبدالمعیز وحید