حب المساکین (مساکین سے محبت)

مساکین سے محبت کا سوال:

ترمذی اور مسند احمد میں ایک طویل حدیث ہے جس میں رسول ﷺ نے اپنے خواب کا ذکر کیا۔

آپ ﷺ نے بتایا کہ آپ نے ملا الا علی یعنی آسمانوں پر فرشتوں کی مجلسوں کے بعض احوال دیکھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپ دعا کریں، آپ کو جو چاہیے وہ مانگیں۔ تب آپ ﷺ نے دعا فرمائی، اور بعد میں وہ دعا صحابہ کرام کو بھی سکھائی۔

اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين . وأن تغفر لي وترحمني وإذا أردت فتنة قوم فتوفني غير مفتون أسألك حبك وحب من يحبك وحب عمل يقرب إلى حبك

اس حدیث کے راوی ابو قلابہ رحمہ اللہ ہیں، جنہوں نے اس دعا کو یاد کر لیا اور اپنی نماز کا مستقل حصہ بنالیا۔ آپ ﷺ نے اس دعا میں مساکین سے محبت کا سوال کیا۔

مساکین کا لفظ ”مسکنت “ سے ہے، جس کا مطلب ہے حاجت یا تنگ دستی۔ مساکین وہ افراد ہوتے ہیں جو معاشی