حب المساکین (مساکین سے محبت)
مساکین سے محبت کا سوال:
ترمذی اور مسند احمد میں ایک طویل حدیث ہے جس میں رسول ﷺ نے اپنے خواب کا ذکر کیا۔
آپ ﷺ نے بتایا کہ آپ نے ملا الا علی یعنی آسمانوں پر فرشتوں کی مجلسوں کے بعض احوال دیکھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپ دعا کریں، آپ کو جو چاہیے وہ مانگیں۔ تب آپ ﷺ نے دعا فرمائی، اور بعد میں وہ دعا صحابہ کرام کو بھی سکھائی۔
اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين . وأن تغفر لي وترحمني وإذا أردت فتنة قوم فتوفني غير مفتون أسألك حبك وحب من يحبك وحب عمل يقرب إلى حبك
اس حدیث کے راوی ابو قلابہ رحمہ اللہ ہیں، جنہوں نے اس دعا کو یاد کر لیا اور اپنی نماز کا مستقل حصہ بنالیا۔ آپ ﷺ نے اس دعا میں مساکین سے محبت کا سوال کیا۔
مساکین کا لفظ ”مسکنت “ سے ہے، جس کا مطلب ہے حاجت یا تنگ دستی۔ مساکین وہ افراد ہوتے ہیں جو معاشی یا معاشرتی لحاظ سے کمزور سمجھے جاتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو امیروں اور صاحب حیثیت طبقے سے باہر ہوتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی مساکین سے محبت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی مثال تھی۔ جب خیبر فتح ہوا، تو آپ نے مالِ غنیمت کو تین حصوں میں تقسیم کیا، دو حصے مجاہدین کو دیے اور تیسرا حصہ اپنی ازواج اور اہل بیت کے لیے رکھا، مگر بعد میں وہ بھی فقراء مہاجرین کو دے دیا، جو اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں چھوڑ چکے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی مساکین سے محبت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی مثال تھی۔ جب خیبر فتح ہوا، تو آپ نے مالِ غنیمت کو تین حصوں میں تقسیم کیا، دو حصے مجاہدین کو دیے اور تیسرا حصہ اپنی ازواج اور اہل بیت کے لیے رکھا، مگر بعد میں وہ بھی فقراء مہاجرین کو دے دیا، جو اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں چھوڑ چکے تھے۔
نبی ﷺ کی مساکین سے محبت :
صحیح مسلم کی روایت میں آتا ہے کہ ایک دن کچھ لوگ عرب قبیلے کے ننگے پاؤں، ننگے بدن والے آپ ﷺ کے پاس آئے۔ ان کی حالت دیکھ کر آپ بے چین ہو گئے فوراً صحابہ کو اکٹھا کیا اور خطبہ دے کر صحابہ کو صدقہ و خیرات کی ترغیب دی۔ کسی نے درہم دیے، کسی نے کھجوریں اور کپڑے دیں۔ پھر جب اچھا خاصا مال جمع ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔
رسول ﷺ کی زندگی کا مستقل وصف تھا۔ آپ کے خصائص میں سے ایک نمایاں خصوصیت یہی تھی کہ آپ فقراء و مساکین سے محبت کرتے اور ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے۔ سیرت نگاروں اور مورخین نے بھی رسول اللہ ﷺ کا تعارف اسی انداز میں کروایا ہے۔
سیرت نگاروں نے لکھا ہے : ”رسول اللہ ﷺ کے ہاں رشتہ دار ہو یا اجنبی، کمزور ہو یا طاقتور، سب حق کے معاملے میں برابر تھے۔ آپ کو مسکینوں سے خاص محبت تھی۔ کسی فقیر کا فقر آپ کو حقیر نہ کرتا، اور کسی بادشاہ کی بادشاہت آپ کو مرعوب نہ کرتی تھی۔“
صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز استسقاء کے لیے خطبہ دیتے تو ان کا چہرہ دیکھ کر ابو طالب کا وہ شعر یاد آجاتا جو انہوں نے جاہلیت میں آپ کے بارے میں کہا تھا:
”ہم ایک ایسے روشن چہرے والے کے ذریعے بارش مانگتے ہیں، جو یتیموں کا سہارا اور بیواؤں کی پناہ گاہ ہے۔“
ابو امامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷺ بطور خاص ضعیف مسلمانوں کے گھروں میں جاتے، ان کی عیادت کرتے ، ان کے جنازوں میں شرکت فرماتے۔ گویا یہ عمل آپ کی سنت اور سیرت کا حصہ بن چکا تھا۔
تمام انبیاء کرام کی صفت:
ہمارے ہاں ہوتا یہ ہے کہ جب کسی شخص کو کوئی مقام مل جاتا ہے۔ مثلاً وہ علم میں بڑا ہو جاتا ہے، شہرت حاصل کر لیتا ہے۔ تو بعض اوقات وہ عام لوگوں سے دور ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اصل کمال تو یہ ہے کہ انسان اپنے مقام و مرتبے کے با وجود عاجزی اختیار کرے اور فقراء و مساکین کے ساتھ بیٹھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فقراء و مساکین کے گھروں میں جاتے ، ان کی بیواؤں کے گھر جاتے، بچوں کو پیار کرتے، ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے، انہیں سلام کرتے اور ان کے لیے دعا فرماتے۔
نجم الدین الغزی رحمہ اللہ اپنی کتاب ” حسن التنبہ ” میں لکھے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی ایک صفت یہ بھی تھی کہ انہیں فقراء کی مجلسیں، امیروں کی مجلسوں سے زیادہ محبوب تھیں۔ یہ مشابہت اختیار کرنا نیکی کا معیار ہے۔
قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تاکید کی کہ ان لوگوں کے ساتھ رہیں جو صبح و شام اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں، خواہ وہ غریب ہوں۔ حتی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت کے تحت قریش کے سرداروں کو الگ وقت دینے کا ارادہ فرمایا، تو اللہ تعالیٰ نے سرزنش کی۔
اسی طرح قوم نوح نے بھی نوح علیہ السلام پر اعتراض کیا کہ آپ کے ساتھ وہ لوگ چلتے ہیں جو ہمارے ہاں کم تر سمجھے جاتے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے فرمایا:” اگر میں انہیں ہٹا دوں تو مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا؟”
یہی منہج دیگر انبیاء کا بھی تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام جو نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے آپ بسا اوقات اپنی قوم کے فقراء کے درمیان جا کر بیٹھ جاتے اور فرماتے:
”اے میرے رب ! تیرے ان مسکین بندوں کے درمیان تیرا ایک اور مسکین آبیٹھا ہے۔“
موسیٰ علیہ السلام، اور خضر علیہ السلام کا واقعہ بھی ہمیں اسی روش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سورہ کہف میں خضر علیہ السلام نے جس کشتی کو توڑا تھا، وہ دراصل چند مسکینوں کی ملکیت تھی، تاکہ وہ ظالم بادشاہ کے ظلم سے بچ سکیں۔
انبیائے کرام ہمیشہ فقراء کے خیر خواہ، ان کے مدد گار ، اور ان کے ہم نشین رہے ہیں۔ یہی نبوی منہج ہے، یہی انبیا کا طریقہ ہے، اور جو اس راہ پر چلنا چاہتا ہے، اس کے لیے فقراء و مساکین سے تعلق، محبت اور مجلس اختیار کرنا لازم ہے۔
کفار کی صفت:
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کفار کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ نہ خود مسکینوں کو کھانا کھلاتے ہیں، نہ دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں۔ قیامت کے دن ان سے پوچھا جائے گا: کس چیز نے تمہیں جہنم میں ڈالا ؟ تو وہ کہیں گے : ”ہم نہ نماز پڑھتے تھے، نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔“
اسلام کا فلاحی نظام اور مساکین:
اسلام کا فلاحی نظام زکوۃ و صدقات پر قائم ہے، جن کا بنیادی مصارف مساکین ہیں۔ فرض زکوٰۃ ہو یا نفلی صدقات، دونوں میں مساکین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کئی عبادات کے کفارات بھی مساکین کی خدمت سے وابستہ ہیں، مثلاً :
– قسم توڑنے پر : 10 مسکینوں کو کھانا
– روزہ نہ رکھنے پر : ایک مسکین کو کھانا
– ظہار کا کفارہ: 60 مسکینوں کو کھانا
قرآن یہ بھی ہدایت دیتا ہے کہ میراث کی تقسیم کے وقت اگر مساکین اور یتیم موجود ہوں تو انہیں بھی کچھ دیا جائے اور ان سے نرمی سے بات کی جائے۔
کھلانے کا اصل کمال:
محض عطیہ دینا یا کسی تنظیم کو پیسے دے دینا نیکی ضرور ہے، لیکن اصل کمال یہ ہے کہ : ”مسکین کو اپنے ساتھ بٹھا کر ایک ہی دستر خوان سے کھانا کھلایا جائے۔“
نبی ﷺ نے فرمایا: ”بدترین دعوت وہ ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور فقیروں کو چھوڑ دیا جائے۔“
یتیم کی کفالت کرنے والا :
نبی ﷺ نے فرمایا : ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے جیسے دو انگلیاں۔“ یہ اُن لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو یتیموں کو صرف پیسہ نہیں دیتے بلکہ انہیں اپنے بچوں کی طرح گھر میں رکھتے ہیں۔ بہترین نیکی وہ ہے جس میں فاصلہ نہیں بلکہ تعلق، محبت اور قربت ہو۔
نبی ﷺ اور صحابہ کا طرزِ عمل:
اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہی طرزِ عمل تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے کئی بار اہل صفہ کے ساتھ کھانا کھایا، حالانکہ آپ نے ساری زندگی اپنی مرضی سے فقر وفاقہ کو اختیار کیے رکھا۔
حضرت ابن عمر کے بارے میں آتا ہے کہ باوجود مالدار ہونے کے وہ کوئی کھانا مساکین کے بغیر نہیں کھاتے تھے۔ اپنے غلام سے کہتے کہ باہر جاؤ، کوئی محتاج، مسکین، ضرورت مند تلاش کرو اور اُسے لا کر ساتھ کھلاؤ۔ وہ فرمایا کرتے تھے: “تمہیں کیا معلوم ، ان میں سے کل قیامت کے دن کون اللہ کے ہاں سب سے بلند مقام والا ہو گا۔ “
حضرت جعفر بن ابی طالب کو ” ابو المساکین ” (مساکین کا باپ) کہا جاتا تھا۔ وہ اکثر صفہ کے فقراء کے ساتھ بیٹھتے، باتیں کرتے اور انہیں کھانا کھلاتے۔
صحابه کا طرز عمل :
حضرت زینب رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ، کو ” ام المساکین ” کہا جاتا تھا، کیونکہ وہ مساکین کا خاص خیال رکھتی تھیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ نے بطورِ خاص وصیت فرمائی تھی:
یا عائشہ ! مسکین کو کبھی خالی نہ لوٹانا، چاہے تمہارے پاس آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو۔”
نبی ﷺ نے بعض صحابہ کو خاص طور پر وصیت کی کہ مساکین سے محبت رکھو، جیسا کہ حضرت ابوذر اے کو فرمایا: “مساکین سے محبت کرو، انہیں اپنے قریب رکھو۔”
حضرت حسن کا ایک مرتبہ جارہے تھے، دیکھا کہ کچھ مساکین بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں۔ انہوں نے اُن سے کہا: ” آپ بھی ہمارے ساتھ کھائیں ! حسن ﷺ نے فرمایا اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے، اور پھر ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ بعد میں اُنہیں اپنے گھر بھی بلایا۔
عبد الرحمن بن عوف جیسے مالدار صحابی بھی غلاموں کے درمیان اس طرح اٹھتے بیٹھتے تھے کہ کوئی پہچان نہیں سکتا تھا کہ کون آقا ہے اور کون خادم – حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دیگر خلفائے راشدین سادہ لباس پہنتے تھے تاکہ سادہ لوگوں میں کوئی احساسِ کم تری نہ ہو۔
امام سفیان ثوری کے بارے میں آتا ہے کہ ان کی مجلس میں فقیر اس طرح عزت محسوس کرتے جیسے بادشاہ ہوں۔ یہی حالت دیگر اکابر علماء و محدثین کی تھی کہ ان کی مجالس میں امیر و غریب کی کوئی تفریق نہ تھی۔
یہی وہ طرزِ عمل ہے جو ہمیں سکھایا گیا ہے کہ تکبر نہ ہو ، دولت کا غرور دل میں نہ ہو ، اور فقراء و مساکین کو اپنے برابر کا درجہ دیا جائے۔ یہی طریقہ قیامت کے دن نجات کا باعث بنے گا۔
سلف صالحین کی نصیحتیں:
امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مساکین سے محبت اور ان کا خیال رکھنا سلف صالحین کی دائمی سنت تھی۔ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کرتے تھے۔“
امام ابو یعقوب ، جو امام شافعی کے شاگرد تھے، جیل سے اپنے شاگرد کو خط میں لکھتے ہیں: ”غرباء اور پر دیسی طلبہ کا خاص خیال رکھنا، ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا، کیونکہ یہ لوگ دین کے طالب ہیں، دنیا کے نہیں۔“
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی مجلس میں فقیر ایسے محسوس کرتے تھے جیسے وہ بادشاہ ہوں۔ ان کی مجلس میں امیر و غریب کی کوئی تمیز نہ تھی۔
اخلاقی حساسیت اور تربیت:
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا طرز عمل ایسا تھا کہ اگر وہ غلاموں کے ساتھ ہوتے تو ان کالباس اور انداز اتنا سادہ ہو تا کہ پہچاننا مشکل ہو جاتا کہ یہ اتنے بڑے صحابی ہیں۔
صحابہ کرام اپنے بچوں کو ایسا لباس یا کھلونے نہیں دیتے تھے جنہیں دیکھ کر یتیم بچے یا غریب بچے احساسِ محرومی کا شکار ہوں۔ ان کے دلوں کا اتنا خیال کرتے کہ معاشرتی فرق ان کے جذبات کو مجروح نہ کرے۔
آج ہمارے معاشرے میں فقراء کی عزت کم، اور امراء کی ظاہری چمک دمک کو معیار سمجھا جاتا ہے۔ میڈیا، سوشل میڈیا، تقریبات، اور دعوتی پروگراموں میں بھی طبقاتی تقسیم نمایاں ہے۔ دین اسلام کی اصل روح تو یہ ہے کہ مساکین کی عزت و محبت کو مرکزی مقام دیا جائے
قرآن مجید میں واقعہ “عبد اللہ بن ام مکتوم ” رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے محض ان سے چہرہ پھیرنے پر تنبیہ کی۔
مساکین کے فضائل
1 – انبیاء کی دعوت پر لبیک کہنے والے پہلے لوگ:
مساکین ہمیشہ انبیاء کی دعوت کو سب سے پہلے قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہر قل اور ابو سفیان کے مکالمے میں ہر قل نے کہا: ” انبیاء کی پیروی ہمیشہ کمزور اور نچلے طبقے کے لوگ کرتے ہیں۔ ” !
قوم نوح اور قوم صالح میں بھی سرداروں نے کمزوروں پر اعتراض کیا کہ یہ نبی کی پیروی کیسے کر سکتے ہیں؟ لیکن حقیقت یہی تھی کہ فقراء و مساکین ہی سبقت لے گئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فقراء صحابہ جیسے حضرت بلال، حضرت عمار ، اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہم کو عزت دی اور فتح مکہ کے بعد اسلام لانے والے قریش کے سرداروں کو ان کے پیچھے رکھا۔
آپ فرمایا کرتے : ” جنہوں نے نیکی میں سبقت کی، ان کا مقام بھی سب سے آگے ہے۔”
2 – قیامت کے دن فقراء کی فضیلت:
صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “فقراء و مہاجرین قیامت کے دن مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔”
3 – جنت میں فقراء کی اکثریت:
صحیح بخاری، مسلم اور سنن ابو داؤد میں روایت ہے کہ جنت اور جہنم نے ایک دوسرے سے بحث کی۔ جہنم نے کہا: میرے اندر بادشاہ، مالدار ، اور متکبر لوگ ہوں گے۔ “جنت نے کہا: “میرے اندر غریب، مساکین اور عاجز لوگ ہوں گے ۔ ” اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا: “جنت میں فقراء کی اکثریت ہو گی۔”
مساکین سے محبت کے فوائد :
1 – خالص اللہ کے لیے محبت:
مساکین سے محبت مال یا دنیاوی فائدے کی بنیاد پر نہیں ہو سکتی، کیونکہ ان کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہوتا۔ لہذا یہ محبت صرف اور صرف اللہ کے لیے ہوتی ہے ، جو کہ اخلاص کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔
2 – تکبر اور غرور کا علاج:
مساکین کی صحبت اختیار کرنے سے انسان کے اندر کا تکبر اور فخر ٹوٹتا ہے۔ متکبر انسان اپنے سے کمتر سمجھے جانے والوں کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتا، جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “میں متکبرین کو اپنی آیات سے دور کر رہتا ہوں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میں فقراء کے ساتھ اس لیے بیٹھتا ہوں کہ کہیں میر اشمار متکبرین میں نہ ہو جائے۔”
3 ۔ دل کی نرمی اور رحم دلی پیدا ہوتی ہے:
مساکین سے محبت انسان کے دل کو نرم کرتی ہے۔ جب انسان ان کے ساتھ بیٹھتا، کھاتا اور ان کے حالات سے واقف ہوتا ہے تو اس کے دل میں رحم ، محبت اور شفقت پیدا ہوتی ہے، جو دین کا اصل مقصد ہے۔
4 ۔ شکر گزاری کی عادت پیدا ہوتی ہے:
جب انسان مساکین کے حالات دیکھتا ہے تو اسے اپنی نعمتوں کا احساس ہوتا ہے، اور وہ اللہ کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے۔ حضرت عون بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” میں اکثر غم میں رہتا تھا، مگر جب سے میں نے فقراء کی صحبت اختیار کی، مجھے قلبی سکون اور راحت ملنے لگی۔”
طالب علم کے لیے تنبیہ:
آج علم دین کو ایک خاص طبقے اور ظاہری چمک دمک سے جوڑ دیا گیا ہے، حالانکہ دین کا اصل مزاج فقر، سادگی اور قربانی ہے۔ امام بخاری ، امام احمد بن حنبل اور دیگر محدثین نے تنگدستی میں علم حاصل کیا، مگر دل میں اللہ کے لیے عاجزی تھی۔ جو لوگ علم کو صرف آرام دہ ماحول اور نام و نمود سے جوڑتے ہیں، وہ اکثر روحانیت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ علم کی برکت سے صرف اس لیے محروم ہو جاتے ہیں کہ وہ غریب طلبہ یا سادہ علماء کے ساتھ بیٹھنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔
حقیقی مسکنت کا مفہوم:
شریعت نے ہمیں مساکین سے محبت کا جو حکم دیا ہے، اس کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلو ہیں۔ بعض علماء کرام، جیسے امام سفیان بن عیینہ اور دیگر ائمہ ، نے حدیث میں ذکر کیے گئے “مساکین ” کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: ” یہاں مسکین سے مراد صرف وہ نہیں جو مالی طور پر محتاج ہو، بلکہ وہ بھی ہے جس کا دل اللہ کے سامنے جھک چکا ہو ۔”
فقیر متکبر اور اللہ کا غضب:
حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پسند نہیں فرماتا جو فقیر ہو مگر متکبر ہو۔ کیونکہ :
مالدار انسان کے پاس تکبر کی ظاہری وجوہات ہوتی ہیں: مال، رتبہ ، اختیار۔ لیکن ایک فقیر ، جس کے پاس نہ مال ہے نہ وجاہت، اگر وہ بھی تکبر کرے تو یہ اللہ کے شدید غضب کا باعث بنتا ہے یہ
نبی ﷺ کی دعا:
” اے اللہ ! مجھے مسکینوں کے ساتھ زندہ رکھ، مجھے مسکینوں کی حالت میں موت دے، اور قیامت کے دن مجھے مساکین کے ساتھ اٹھا۔ ” ( یہاں جس مسکنت کا ذکر وہ باطنی ہے۔ کہ اے اللہ مجھے ہمیشہ اپنے سامنے جھکا ہوا رکھ۔)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی نظم:
أَنَا الْفَقِيرُ إِلَى رَبِّ الْبَرِيَّاتِ
أَنَا الْمُسَيِّكِينُ فِي مَجْمُوعِ حَالَاتِي
یہی روحانی مسکنت ہے۔ یعنی اگر کسی بندے کے پاس مال و دولت ہو ، مگر وہ دل سے اللہ کے سامنے جھکا رہے، تکبر، دنیا پرستی اور خود پسندی سے پاک ہو، تو وہ در حقیقت حقیقی مسکین ہے، اور یہی بندہ اللہ کا محبوب ہوتا ہے۔جب ظاہری فقر اور باطنی عاجزی دونوں جمع ہو جائیں، تو وہ سب سے اعلیٰ مقام بن جاتا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی نظم:
صحیح مسلم کی روایت ہے : ” ایسے پراگندہ حال، گرد آلود لباس والے مساکین بھی ہوتے ہیں، جو اگر اللہ پر قسم ڈال دیں تو اللہ وہ قسم پوری فرما دیتا ہے۔“
خلاصہ کلام:
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مساکین سے محبت تھی۔ آپ نے اپنی امت کو بھی یہی تعلیم دی، صحابہ کرام اسی طرز پر چلے ، اور سلف صالحین بھی ہمیشہ مساکین کے ساتھ محبت ، نشست اور عاجزی کو پسند کرتے رہے۔ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہم بھی مساکین کے ساتھ محبت پیدا کریں۔ مساکین کی مجالس اختیار کریں۔ ظاہری فقر سے گھبرائیں نہیں، بلکہ باطنی مسکنت پیدا کریں۔