قرآن مجید سے تقلید کا رد

امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے۔ (التوبہ : ٣١)


نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں :

اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیجا وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں۔ نبی نے کہا بھی کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہتر مقصود تک پہنچانے والا طریقہ لے کر آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے۔‘‘ (الزخرف : ٢٣ – ٢٤)


انہی کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا :


’’بیشک بدترین خلائق اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں جو کہ ذرا نہیں سمجھتے۔‘‘ (الأنفال : ٢٢)


نیز فرمایا :

’’جب وہ لوگ جن کی پیروی کی گئی تھی، ان لوگوں سے بالکل بے تعلق ہوجائیں گے جنھوں نے پیروی کی اور وہ عذاب کو دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات بالکل منقطع ہوجائیں گے۔ اور جن لوگوں نے پیروی کی تھی کہیں گے کاش! ہمارے لیے ایک بار دوبارہ جانا ہو تو ہم ان سے بالکل بے تعلق ہوجائیں، جیسے یہ ہم سے بالکل بے تعلق ہوگئے۔ اس طرح اللہ انھیں ان کے اعمال ان پر حسرتیں بنا کر دکھائے گا اور وہ کسی صورت آگ سے نکلنے والے نہیں۔‘‘ (البقرہ : ١٦٧)


اسی طرح اللہ تعالی نے اہل کفر کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا :

’’جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں؟ سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا۔‘‘ (الانبیاء : ٥٢ – ٥٣)

مزید فرمایا :

’’اور کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکا دیا۔‘‘ (الأحزاب : ٦٧) علماء نے ان آیات سے تقلید کے باطل ہونے پر دلیل لی ہے، اور ان آیات میں مذکور لوگوں کے کفر نے انہیں اس استدلال سے نہیں روکا کیوں کہ یہاں تشبیہ ایک کے کفر اور دوسرے کے ایمان سے نہیں، بلکہ دونوں طرح کے مقلدین کی بلا دلیل تقلید کو آپس میں تشبیہ دی گئی ہے کہ ایک شخص نے کسی شخص کی تقلید کی تو کفر کر بیٹھا اور دوسرے نے تقلید کی تو گناہ میں پڑ گیا اور تیسرے نے دنیاوی امر میں تقلید کی تو اس نے اس اعتبار سے خطا کھائی ۔ لہذا حقیقت میں تینوں ہی بلا دلیل تقلید کرنے کی وجہ سے قابل ملامت ٹھہرے ۔کیوں کہ ان تینوں کی تقلید ایک دوسرے کے مشابہ ہے اگرچہ ان کا گناہ مختلف ہے ۔ اور اللہ تعالی فرماتے ہیں : اللہ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت کرکے بعد میں گمراہ کردے جب تک کہ ان چیزوں کو صاف صاف نہ بتلا دے جن سے وہ بچیں ۔ (التوبہ : ١١٥)

جب ہمارے بیان کردہ ان تمام دلائل سے تقلید کا بطلان ثابت ہو گیا تو اب ان اصولوں کو ماننا واجب ہے کہ جن کا وجوب (شرعا) ثابت ہے اور وہ قرآن و سنت اور وہ جو دلیل جامع کے ساتھ ان دونوں کے معنی میں ہو ۔‘‘ (جامع بیان العلم وفضلہ : ٢/ ٩٧٧)


سنت سے تقلید کا رد

امام رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : علماء چلے جائیں گے تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، ان سے پوچھا جائے گا تو بلا علم فتوی دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘ ان سب دلائل میں تقلید کی نفی اور رد واضح ہے کہ جو ان کا فہم رکھتا ہو اور رشد کی طرف راہ نمائی پا گیا ہو۔ (ایضاً : ٢/ ٩٨٨)


تقلید صرف جاہل کرتا ہے عالم نہیں ۔‘

امام رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’مقلد لا علم ہوتا ہے اور اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں۔‘‘ (ایضاً : ٢/ ٩٩٢)

امام عبد اللہ بن المعتز کا فرمان ہے : ’’ہانکے جانے والے جانور اور مقلد میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔‘‘ (ایضا: ٢/ ٩٨٨)


جاہل/عامی کے لیے تقلید

یاد رہے کہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ کے نزدیک ایسے عامی کے لیے تقلید ہے جو علوم شرعیہ سے بالکل کورا ہو اور اس کی مثال وہ یوں دیتے ہیں کہ ایک شخص اندھا ہے، بے چارہ دیکھ کر قبلے کا تعین نہیں کر سکتا اس لیے لازمی طور پر وہ کسی سے قبلے سمت پوچھ کر ہی نماز ادا کرے گا، اسی طرح جو شخص علوم دین میں بالکل اس اندھے کی طرح ہو وہ تقلید کرے گا اور اس میں کوئی اختلاف ہی نہیں نیز امام رحمہ اللہ عامی کے لیے کسی معین مذہب کی قید نہیں لگاتے جیسا کہ بعض غالی مقلد لگاتے بلکہ ان کے ہاں عامی اہل علم سے سوال کرے گا اور بس۔ ( دیکھیے : جامع بیان العلم وفضلہ : ٢/ ٩٨٨)

یہ بھی یاد رہے کہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ مالکی ہیں، لیکن بیسیوں مسائل میں اپنے مذہب سے نکل کر دلیل کی پیروی کرتے ہوئے دیگر مذاہب کی رائے اختیار کرتے ہیں، اگر کوئی شخص اس بات کو تقلید یا تمذہب کہتا ہے تو اھلا وسهلا…


تقلید کے فساد پر اجماع ہے۔

امام رحمہ اللہ فرماتے ہیں : تمام علاقوں کے علماء کے مابین تقلید کے فساد میں کوئی اختلاف نہیں۔ (٢/ ٩٩٥)

مزید عقلی و نقلی دلائل کے لیے دیکھیے : جامع بیان العلم وفضلہ باب فساد التقليد ونفيه والفرق بين التقليد والاتباع.

کتبہ؛ حافظ محمد طاہر