برے خیالات سے نجات کا راستہ : تطھیر الخواطر

خیالات کی اقسام

تمام عقلاء و حکماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عظیم نعمتیں عطا کی ہیں، ان میں سوچنے کی صلاحیت ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ یہ وہ خاص وصف ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ تاہم، دیگر نعمتوں کی طرح، شیطان نے اس نعمت کو بھی انسان کے لیے تباہی کا ذریعہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ جیسے ظاہر اعمال کی اقسام ہیں، ویسے ہی باطنی خیالات بھی تین اقسام میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں:

1. اچھے خیالات:

وہ خیالات جو نیکی پر مشتمل ہوں، مثلاً اللہ کی محبت، اس کی معرفت، جنت و جہنم کا تذکرہ اور دیگر اخروی امور پر غور و فکر۔

2. برے خیالات:

وہ خیالات جو کسی گناہ کی طرف لے جانے والے ہوں، جیسے گناہ کی تمنا کرنا، دوسروں کے بارے میں کینہ، بغض، یا حسد رکھنا، یا نامحرم کے بارے میں شہوت پر مبنی خیالات کا دل میں آنا۔

3. فضول اور لایعنی خیالات:

وہ خیالات جن کا کوئی مقصد نہ ہو اور نہ ہی وہ اچھائی یا برائی پر مشتمل ہوں۔ لیکن ایسے خیالات کی کثرت انسان کو برے خیالات کی طرف مائل کر سکتی ہے۔

برے خیالات کا حکم

شریعت مطہرہ میں محض برے خیالات آنے پر انسان کا مؤاخذہ نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“برا خیال آنا نقصان دہ نہیں، بلکہ اس پر مستقل سوچنا اور غور کرنا گناہ ہے۔”

یہ ایک طبعی بات ہے کہ انسان کے ذہن میں کبھی کبھار برا خیال آ سکتا ہے۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے کسی برے شخص سے سامنا ہو جائے۔ اگر انسان نظرانداز کر کے گزر جائے تو محفوظ رہے گا، لیکن اگر اس سے تعلق بڑھا لے تو نقصان کا خطرہ یقینی ہو جائے گا۔

ابتدائے وحی میں ہی نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا: “وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ” (اپنے کپڑوں کو پاک رکھو)۔

اس آیت کی تفسیر میں سعید بن جبیر اور دیگر سلف رحمہم اللہ نے دل کو صاف رکھنا مراد لیا ہے۔ پس جب نبی ﷺ کو دل صاف رکھنے کی تاکید کی گئی، تو ہمیں اس حکم کی اہمیت کو بدرجہ اولیٰ سمجھنا چاہیے۔

برے خیالات کا سبب

یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ برے خیالات زیادہ تر ان لوگوں کے ذہن میں آتے ہیں جو فارغ بیٹھے ہوں۔ جب انسان کے پاس کوئی مصروفیت نہ ہو تو وہ کبھی بدلے کی خواہش میں مبتلا ہو جاتا ہے، تو کبھی شہوانی خیالات اس پر غلبہ پا لیتے ہیں۔

برے خیالات کے نتائج

اگر انسان کسی چیز کے بارے میں مسلسل سوچتا رہے تو وہ محض خیال نہیں رہتا بلکہ عملی زندگی پر اثر انداز ہونے لگتا ہے۔ کوئی بھی شخص اچانک گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا، بلکہ گناہ کے خیالات اس کے ذہن میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔

ابن القیم رحمہ اللہ مدارج السالکین میں لکھتے ہیں:

“تمام نیک لوگوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ خیالات کی حفاظت دراصل اقوال و افعال کی حفاظت ہے۔ جو شخص اپنے خیالات کو اللہ کے علم کے تحت رکھتا ہے، اللہ اس کے ظاہر و باطن کے اعمال کی حفاظت فرماتا ہے۔”

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

“دل ایک صاف کاغذ کی مانند ہے اور خیالات اس پر نقوش کی طرح۔ کوئی صاحب عقل نہیں چاہے گا کہ اس کا صاف کاغذ بے کار اور نقصان دہ چیزوں سے بھر جائے۔”

برے خیالات سے حفاظت

1. انسان کو چاہیے کہ خود کو خیر کے کاموں میں اتنا مشغول کر لے کہ اسے کسی بری چیز کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہ ملے۔ فارغ وقت ہمیشہ شیطان کے حملے کا شکار بنتا ہے۔

2. جب برا خیال آئے تو فوراً رک جائیں اور اسے طول نہ دیں۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے کوئی چنگاری اڑتی ہوئی لکڑیوں تک پہنچے اور فوراً بجھا دی جائے۔ اگر چنگاری کو نظرانداز کیا جائے تو آگ پھیل کر ناقابل برداشت نقصان کر سکتی ہے۔

امام راغب اصفہانی رقم طراز ہیں: “تقوی کے بالترتیب تین درجات ہیں: شرک سے بچنا، محرمات سے بچنا، خیالات اور نیتوں کر پاک کر لینا۔

برا خیال آنے پر تعامل

ابن القیم رحمه الله نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “طریق الھجرتین” میں ایسے خیالات کے سدباب کے طور پر دس حل بیان کیے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

“اگر آپ سوال کریں کہ خیالات کی حفاظت کیسے ممکن ہے؟”

 تو میں جواب دوں گا کہ اس کے متعدد حل ہیں:

1. اللہ تعالیٰ کے آپ کے دل کی طرف دیکھنے اور آپ کے خیالات کو تفصیلاً جاننے پر پختہ ایمان رکھنا۔

کتاب و سنت میں بار بار یہ ذکر آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال اور ان کے دلوں کے خیالات سے پوری طرح واقف ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں: “یعلم خائنة العین وما تخفی الصدور” (وہ نگاہ کی خیانت کو اور دلوں کی چھپی باتوں کو جانتا ہے)۔

امام سفیان ثوری رحمه الله اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: “تمہارے دل میں جو بھی شہوت یا برا خیال آتا ہے، اللہ اس سے بخوبی واقف ہے۔”

اسی طرح قرآن مجید میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: “تعلم ما فی نفسی” (آپ جانتے ہیں جو میرے دل میں ہے)۔ گویا وہ اللہ سے عرض کریں گے کہ اگر میرے دل میں ایسا کوئی خیال ہوتا تو آپ اسے ضرور جان لیتے۔

2. اللہ تعالیٰ سے شرم و حیا کرنا۔

صحیح مسلم کی حدیث ہے: “إن الله لا ینظر الی صورکم وأموالکم ولکن ینظر الی قلوبکم وأعمالکم” (بے شک اللہ تمہاری صورتوں اور اموال کو نہیں بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے)۔

شیخ صالح العصیمی حفظه الله فرماتے ہیں: “جس طرح تمہیں شرم آتی ہے کہ لوگ تمہیں داغ دار لباس میں دیکھیں، اسی طرح اللہ سے حیا کرو کہ وہ تمہارے دل میں جھانکے اور وہاں گندگی اور غلاظت ہو۔”

کتنا احمق انسان ہے جو دوسروں کے لیے اپنے لباس کو صاف ستھرا رکھتا ہے مگر اللہ کے دیکھنے کی جگہ، یعنی دل، کو کوڑے کا ڈھیر بنا دیتا ہے۔

3. یہ سوچیں کہ اللہ ان خیالات کو اس دل میں دیکھیں گے جو ان کی معرفت اور محبت کے لیے بنایا گیا تھا۔

یوسف بن اسباط رحمه الله فرماتے ہیں: “دلوں کو اللہ کے ذکر کے لیے پیدا کیا گیا تھا، مگر یہ شہوات کا مسکن بن گئے ہیں۔”

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمه الله نے کہا: “دل اللہ کی محبت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور یہی فطرت ہے جس پر انسان پیدا ہوا ہے۔” جیسا کہ حدیث نبوی ہے: “ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔”

سلیمان الدارانی رحمه الله سے کسی نے پوچھا: “اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟”

یہ سن کر وہ رو پڑے اور فرمایا: “سب سے افضل چیز یہ ہے کہ اللہ آپ کے دل میں دیکھے تو وہاں دنیا و آخرت کی ہر محبت کے بجائے صرف اپنی محبت پائے۔”

ابن القیم رحمه الله اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں: “یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے محسن سے محبت کرتا ہے، اور اللہ سے بڑھ کر ہم پر احسانات کرنے والا کوئی نہیں۔”

أبو عثمان الحیری رحمه الله نے کہا: “دل میں دنیاوی خواہشات کو جگہ دینا دراصل اللہ کی معرفت اور محبت کو وہاں سے نکالنے کے مترادف ہے۔”

الغرض، اس موضوع پر اہلِ علم کا بیش بہا کلام موجود ہے، جو دل کی صفائی اور اللہ کی محبت کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔

4. اس خوف سے بچیں کہ ان خیالات کی وجہ سے آپ اللہ کی نظروں میں گر جائیں۔

یہ کیسا تضاد ہے کہ انسان لوگوں کے سامنے اپنی عزت و مقام کے لیے ہزاروں چیزوں سے اجتناب کرتا ہے، مگر اللہ، جو سب مخلوقات کا خالق ہے، کے سامنے اپنے مقام کی فکر نہیں کرتا۔ ایسا طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ انسان نے مخلوق کو خالق پر ترجیح دے دی ہے۔

5. اللہ کی خاطر اپنے دل سے ہر غیر اللہ کی محبت نکال دیں۔

ابن رجب رحمه الله لکھتے ہیں: “اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں، اور اسے یہ گوارا نہیں کہ بندۂ مؤمن کے دل میں اس کے علاوہ کسی اور کی محبت ہو۔”

6. اس بات سے ڈریں کہ یہ برے خیالات آپ کے ایمان اور اللہ کی محبت کو جلا کر خاکستر کر دیں اور آپ کو خبر تک نہ ہو۔

اس کی حالت بالکل ایسے شخص کی سی ہے جو جلتی ہوئی تیلی خشک لکڑیوں کے ڈھیر پر رکھ کر یہ گمان کرے کہ آگ نہ لگے گی۔ یہ ناممکن ہے کہ برے خیالات کو مسلسل ذہن میں رکھنے سے ایمان محفوظ رہے۔ یہ خیالات دیمک کی طرح ایمان کو اندر ہی اندر چاٹ جاتے ہیں۔

سھل بن عبداللہ فرماتے ہیں: “ہر گھڑی اللہ عزوجل اپنے بندوں کے دلوں میں جھانکتا ہے۔ پس جب کسی دل میں غیر اللہ کی محبت دیکھتا ہے تو اس پر شیطان کو مسلط کر دیتا ہے۔”

7. سمجھ لیں کہ برے خیالات شیطان کی جانب سے ڈالے گئے ان دانوں کی مانند ہیں جو شکار کے لیے جال میں رکھے جاتے ہیں۔

ہر برا خیال شیطان کی طرف سے آپ کو شکار کرنے کی کوشش ہے، مگر آپ اس کے جال کو پہچان ہی نہیں پاتے۔

پرندے دانے کو خوراک سمجھ کر بغیر سوچے سمجھے لپکتے ہیں اور یوں جال میں قید ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح انسان لذت، سکون یا انتقام کی خواہش کے فریب میں مبتلا ہو کر ان خیالات کا اسیر بن جاتا ہے اور پھر اس جال سے نکلنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔

8. یقین رکھیں کہ برے خیالات اور ایمان کی حلاوت ایک دل میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ بلکہ یہ باہم متضاد چیزیں ہیں۔ اب سوچیے اس دل کا کیا حال ہوگا جس میں نفس اور شیطان کے وسوسے غالب آ جائیں اور اللہ کی معرفت کو بے دخل کر دیں؟

یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جس دل میں دونوں موجود ہوں، ان میں سے ایک دوسرے کو مغلوب کر کے باہر نکال دے گا۔

درحقیقت، اللہ کی معرفت اور شیطانی خیالات کی مثال آگ اور پانی جیسی ہے—یہ کبھی یکجا نہیں ہو سکتے۔

ابن سمعون رحمه الله فرماتے ہیں: “حدیث میں آیا ہے کہ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تماثیل اور تصویریں ہوں۔” تو پھر اگر دل میں مخلوق کی محبت ہو تو اللہ کی معرفت کیسے داخل ہو سکتی ہے؟

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمه الله فرماتے ہیں: “دل کے لیے ذکر وہی اہمیت رکھتا ہے جو جسم کے لیے غذا رکھتی ہے۔ اگر بیمار بدن کھانے کا ذائقہ محسوس نہ کرے، تو دنیا کی محبت میں مبتلا دل بھی ایمان کی مٹھاس نہیں چکھ سکتا۔”

سھل بن عبداللہ فرماتے ہیں: “حرام ہے کہ غیر اللہ کی محبت میں مگن دل کو ایمان کی خوشبو ملے۔ حرام ہے کہ ایسے دل میں نور داخل ہو جس میں اللہ کے ناپسندیدہ خیالات بستے ہوں۔”

9. جان لیں کہ خیالات کا سمندر ایسا سمندر ہے جس کا کوئی ساحل نہیں۔ دل اگر اس تاریک سمندر میں اتر جائے تو نجات کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ برے خیالات دل کو بے فائدہ اور نقصان دہ امور میں الجھا دیتے ہیں.

10. یاد رکھیں کہ برے خیالات احمقوں اور جاہلوں کی وادی ہے، جو انسان کو ندامت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں دیتی۔

تلخیص وتحرير : عبدالمعیز وحید