اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ
اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اپنے اسمِ “لطیف” کا ذکر فرمایا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: “اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ”، یعنی اللہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ مہربان کیا جاتا ہے، جو کہ بجا ہے، مگر اس اسمِ مبارک کے تمام تر مفاہیم کا احاطہ نہیں کرتا۔ “لطیف” ایک ایسا وسیع اسم ہے کہ اس کے معنی کو الفاظ میں مکمل بیان کرنا محال ہے۔ اس نام میں اللہ عزوجل کی مخلوق کے ساتھ ایک ایسا لطیف اور عمیق تعلق پوشیدہ ہے، جس کی حقیقت کو الفاظ کی گرفت میں لانا دشوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے اس کے مختلف معانی و مطالب بیان فرمائے، جو اگرچہ اس کے مفہوم کے قریب ہیں، مگر اس کی وسعت کا مکمل احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا کہ اس کے متعلق علماء کے بائیس اقوال موجود ہیں۔
1. ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا مفہوم “حفی” بیان کیا ہے، یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ نہایت شفیق اور ان کے معاملات کی نگہداشت فرمانے والا ہے۔
2. عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لطیف سے مراد یہ ہے کہ اللہ عزوجل اپنے بندوں پر بے حد احسان فرمانے والا ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی وفات تک، ہر چھوٹے بڑے، دنیوی و دینی معاملے میں، سراسر اللہ عزوجل کے احسانات کا سلسلہ جاری ہے۔
3. مقاتل رحمہ اللہ کے نزدیک لطیف کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نیک و بد، ہر ایک پر مہربان ہے۔ وہ سرکشوں اور گناہوں میں ڈوبے افراد کو بھی بھوکا نہیں رکھتا، بلکہ سب کو رزق عطا فرماتا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠”
اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے، جس کو چاہے رزق عطا فرماتا ہے، اور وہی طاقتور اور زبردست ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب دعا کی کہ اہلِ مکہ میں سے جو ایمان لائے، اسے رزق عطا فرما، تو اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میں کافروں کو بھی دنیا میں رزق دوں گا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر اللہ ہمیں ہمارے گناہوں کی بنیاد پر مواخذہ کر لے تو کوئی ذی روح باقی نہ بچے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: “وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَآبَّةٍ”
اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر فوراً پکڑ لیتا، تو روئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا۔
4. محمد بن کعب القرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لطیف کا مطلب اللہ کا اپنے بندوں کے ساتھ حساب و کتاب میں نرمی اور مہربانی فرمانا ہے۔ اگر وہ بندوں سے ان کے گناہوں پر سخت گرفت کرلے تو کوئی بھی بخشش کا مستحق نہ ٹھہرے۔ مگر اس کی رحمت کا عالم دیکھیے کہ وہ نہ صرف چھوٹے بلکہ بڑے بڑے گناہوں کو بھی معاف فرما دیتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور لوگوں سے اسے پردے میں کر لے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور پوچھے گا یاد ہے؟ فلاں گناہ تم نے کیا تھا، فلاں کیا تھا، فلاں کیا تھا، یہ اقرار کرتا جائے گا اور دل دھڑک رہا ہو گا کہ اب ہلاک ہوا، اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھ دنیا میں بھی میں نے تیری پردہ پوشی کی اور آج بھی میں نے بخشش کی، پھر اسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دیا جائے
5. امام جعفر بن محمد الصادق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کی رزق میں لطافت اور مہربانی کے دو پہلو ہیں:
وہ تمام چیزیں جن سے رزق فراہم ہوتا ہے، انہیں پاکیزہ بنایا، اگر وہ کراہت آمیز اشیاء میں ہمارا رزق رکھ دیتا تو کس قدر دشواری ہوتی! مگر اس نے نہ صرف رزق کو پاکیزہ چیزوں میں رکھا، بلکہ ان کے حصول کا طریقہ بھی سکھایا— کہ گندم و چاول کس طرح کاشت کیے جائیں، پھل اور سبزیاں کس طرح اگائی جائیں، ہر نعمت کی طلب کے لیے راہنمائی فرمائی۔
اللہ عزوجل نے رزق کو یکبارگی بندے کے حوالے نہیں کر دیا، بلکہ حکمت کے ساتھ تدریج میں رکھا، تاکہ انسان بےجا اسراف میں مبتلا ہو کر اسے ضائع نہ کر دے۔ اگر سب کچھ یکبارگی مل جاتا تو ممکن تھا کہ انسان اپنی ضروریات میں توازن قائم نہ رکھ پاتا۔ اسی لیے اللہ فرماتا ہے: “وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰـكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُؕ-اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ”
“اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق کشادہ کر دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگتے، لیکن وہ اپنی حکمت کے مطابق جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر اور دیکھنے والا ہے۔
6. محمد بن علی القطانی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کی مہربانی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب بندہ ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے، راستے بند دکھائی دینے لگتے ہیں، تب وہ بےقرار ہو کر اپنے رب کی جانب رجوع کرتا ہے، اس پر توکل کرتا ہے، اور اللہ اسے اپنے سائے میں لے لیتا ہے۔ وہ بندے کی حاجات پوری فرماتا ہے، اس کی پریشانیوں کا مداوا کرتا ہے۔ گویا اللہ نے بندوں کے سکون اور چین کو اپنی ذات سے وابستہ کر دیا ہے۔ کسی اور کا محتاج نہیں بنایا، کسی دوسرے در پر بھیجنے کے بجائے خود اسے قبول کرتا ہے۔ بعض آثار میں آتا ہے کہ اسی پر توکل کرو جس پر پہلے لوگ توکل کیا کرتے تھے، کیونکہ جو بندہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے دوسروں کے حوالے نہیں کرتا، بلکہ خود اس کا کفیل بن جاتا ہے۔ اس بارے میں اللہ عزوجل کا فیصلہ ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے گا، میں اسے کافی ہو جاؤں گا۔
7.بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ کی مہربانی اس میں بھی ہے کہ وہ بندوں کی خوبیاں تو ظاہر کرتا ہے، مگر عیب اور گناہ چھپا لیتا ہے۔ اگر اللہ ہمارے گناہ لوگوں کے سامنے آشکار کر دے تو ہمارا کیا حال ہوتا، یہ ہم سب جانتے ہیں۔ چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: “وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً”
اور اس نے تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں مکمل کر دی ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ظاہری نعمت اسلام ہے، اور باطنی نعمت گناہوں کی پردہ پوشی۔ سلف صالحین میں سے بعض فرماتے ہیں: اگر گناہوں کی کوئی بو ہوتی تو ہم میں سے کوئی دوسرے کے پاس نہ بیٹھتا، اور اگر ان کے نشانات ہوتے تو کوئی کسی کے سامنے جانے کی جرأت نہ کرتا۔ بلکہ ایک اثر میں آتا ہے کہ کچھ لوگ آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت کیا ہے؟ کئی آراء سامنے آئیں، مگر ایک شخص بولا: میرے نزدیک سب سے بڑی نعمت گناہوں کی پردہ پوشی ہے۔ سب نے اس بات پر اتفاق کر لیا۔
8. بعض علماء فرماتے ہیں کہ اللہ کی مہربانی اس میں بھی ہے کہ وہ تھوڑی نیکی کو بھی قبول فرما لیتا ہے۔ حالانکہ اگر بندہ پیدائش سے لے کر موت تک سجدے میں پڑا رہے، تو بھی وہ محض اپنی آنکھ جیسی ایک نعمت کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ بندے کی چھوٹی چھوٹی نمازوں، معمولی اعمال اور حقیر سی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے، انہیں پسند فرماتا ہے اور ان پر عظیم اجر عطا کرتا ہے۔
9. اللہ عزوجل اس بندے پر بھی رحم کرتا ہے جو خود اپنے اوپر رحم نہیں کرتا۔ بندہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے، گناہوں میں ڈوبتا ہے، جہنم کی جانب بڑھتا ہے، مگر اس کے باوجود اللہ اسے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا، بلکہ مہلت دیتا ہے، رجوع کی دعوت دیتا ہے، بار بار معاف کرتا ہے، اور اپنے دروازے ہمیشہ کھلے رکھتا ہے۔
10. اللہ عزوجل نے اپنی طرف آنے کے راستے کو آسان کر دیا ہے۔ اس نے قرآن نازل فرمایا، انبیاء مبعوث کیے، اپنے قرب کے طریقے سکھائے، گناہوں کی معافی کے دروازے کھول دیے، اور اپنی ذات کو ہر اس شخص کے لیے دستیاب کر دیا جو اس کی طرف پلٹنا چاہے۔ یہی لطافتِ الٰہی ہے۔
تحریر و تلخیص : عبدالمعیز وحید