دنیا کمانے کا حکم
شریعت مطہرہ میں مال و دولت کمانے کی مطلقاً مذمت نہیں کی گئی۔ اگر مال کمانا ممنوع ہوتا تو اللہ تعالیٰ انسان کو کھانے، پینے، لباس اور رہائش جیسی ضروریات سے جوڑتا ہی نہ ۔ شریعت میں دنیا کی مذمت کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ انسان اپنی ذات یا اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے محنت چھوڑ دے۔ بلکہ ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے جد وجہد فرض ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” مجرد دنیا کی مذمت نہ قرآن مجید میں ہے نہ ہی احادیث نبوی ہے۔ بلکہ اکثر لوگ جو دنیا کی مذمت کرتے ہیں وہ مذمت دین میں موجود ہی نہیں ۔ ” یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بعض لوگ اپنی سستی اور کاہلی پر دین کا پردہ ڈال لیتے ہیں۔
دنیا کی محبت کا حکم
دنیا کی مطلق محبت حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : ” جس کا مطمح نظر دنیا ہو تو اللہ اس کے معاملات بکھیر دیتا ہے ، اس کی آنکھوں کے سامنے فقر رکھ دیتا ہے ، اور اسے دنیا سے اتنا ہی ملتا ہے جتنا پہلے لکھا جا چکا تھا۔ اور جس کی فکر آخرت ہو تو اللہ اس کے معاملات درست کر دیتا ہے ، اس کے دل کو قناعت عطا کرتا ہے ، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے ۔ “
ایک اور حدیث میں آپ کسی ہم نے فرمایا : ” دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے، اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا نقصان آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کو پہنچاتی ہے ۔ “
سلف صالحین فرمایا کرتے تھے : ” دنیا سے تعلق بدنی ہونا چاہئے ، دلی نہیں ۔ ” امام یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ کا قول ہے : ” دنیا کمانے کی ضرورت ہو تو کمالو ، مگر اس کی محبت میں گرفتار نہ ہو۔ بدن سے دنیا کماؤ ، دل کو آخرت کے ساتھ جوڑے رکھو۔ ” ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” اصل بات یہ ہے کہ دنیا سے دل کا تعلق ختم ہو۔ اگر مال ہاتھ میں ہو اور دل میں نہ ہو تو یہ نقصان دہ نہیں، لیکن اگر مال دل میں ہو تو نقصان دہ ہے خواہ ہاتھ میں کچھ بھی نہ ہو۔ “
سفیان ثوری رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا : ” کیا کوئی مالدار زاہد ہو سکتا ہے ؟ ” جواب دیا : ” ہاں ، اگر آزمائش میں صبر کرے اور مال ملنے پر شکر ادا کرے ۔ ” امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا : ” کیا ہزار دینار رکھنے والا زاہد ہو سکتا ہے ؟ ” فرمایا : ” ہاں ، بشر طیکہ مال بڑھنے پر خوش نہ ہو اور کم ہونے پر غمگیں نہ ہو۔ اسی لیے صحابہ کرام امت میں سب سے زیادہ زاہد تھے ، چاہے ان کے پاس کتنا ہی مال کیوں نہ ہو۔
دنیا اور آخرت کا باہمی تعلق:
دنیا اور آخرت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک فانی، دوسری باقی ؛ ایک محبوب ، دوسری حقیر ۔ یہ کیسے ایک دوسرے کے برابر ہو سکتی ہیں؟ شقیق بلخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” میں بیس سال قرآن مجید میں غور کرتا رہا تو دین اور دنیا کو الگ پایا ۔ ان کا موازنہ کیا تو جواب ملا : جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا ساز و سامان اور زینت ہے ، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
سیار بن دینار رحمہ اللہ کا قول ہے : ” دنیا کی خوشی اور آخرت کا غم ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔ ایک آجائے تو دوسری خود نکل جاتی ہے ۔ ” فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” دنیا کا غم آخرت کی فکر کو لے جاتا ہے ، اور دنیا کی خوشی عبادت کی لذت چھین لیتی ہے۔ “
وهب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : ” دنیا اور آخرت کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کی دو بیویاں ہوں۔ ایک کو خوش کرے گا تو دوسری ناراض ہو جائے گی ۔ ” سیار ابی الحکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” دنیا اور آخرت جب دل میں آتی ہیں تو غالب رہنے والی دوسری کو مطیع کر لیتی ہے ۔ “
سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں : ” جو دنیا سے خوش ہو جائے ، اس کے دل سے آخرت کا خوف نکل جاتا ہے ۔ ” معاویہ بن ہشام الثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” دنیا کو دنیا کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ‘دنیة’ یعنی گھٹیا ہے ۔ “
عون بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” تم سے پہلے لوگ آخرت کے عمل کے بعد بچا ہوا حصہ دنیا کو دیتے تھے ، لیکن تم دنیا کے بعد بچا ہوا حصہ آخرت کو دیتے ہو۔ “
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” اے آدم کے بیٹے ! اپنی دنیا کو بیچ کر آخرت خرید لو ، دونوں مل جائیں گی۔
لیکن آخرت بیچ کر دنیا نہ خریدنا ورنہ دونوں کھو بیٹھو گے ۔ ” دنیا کھونے سے مراد پاکیزہ زندگی کا نقصان ہے۔
محاسبه نفس:
دل میں دنیا کی محبت موجود ہے یا نہیں ، اس کا اندازہ درج ذیل باتوں سے لگایا جا سکتا ہے :
1 اگر انسان کی خوشی اور ناراضگی دنیا کے ساتھ جڑ جائے تو وہ دنیا کا غلام ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ” اگر انہیں کچھ دیا جائے تو خوش ہوتے ہیں اور نہ دیا جائے تو ناراض ہوتے ہیں ۔ ” نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” دینار و درہم کے بندے، عمدہ ریشمی چادروں کے بندے، سیاہ کملی کے بندے، تباہ ہو گئے۔ اگر انہیں دیا جائے تو خوش ہوتے ہیں اور نہ دیا جائے تو ناراض رہتے ہیں۔ “
محمد بن سوقہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” دو چیزیں ایسی ہیں کہ اللہ ان پر ہمارا مواخذہ کرے تو ہم عذاب کے مستحق ہوں گے ۔ ایک یہ کہ دنیا کی چیز ملنے پر وہ خوشی جو آخرت کی چیز ملنے پر نہیں ہوتی ، اور دوسرا دنیا کی کمی پر وہ غم جو آخرت کی کمی پر نہیں ہوتا ۔ “
2- اگر کسی کی گفتگو میں دنیا کا ذکر زیادہ ہو اور آخرت کا ذکر کم ، تو وہ دنیا کی محبت میں غرق ہے۔
3- ضروریات پوری ہونے کے باوجود اگر انسان کو مزید دنیوی چیزوں کی حسرت ہو تو یہ بھی خطرے کی علامت ہے۔ اگر اللہ وسعت عطا کرے تو چیزیں خریدی جاسکتی ہیں لیکن دل میں حسرتیں پال لینا کسی طور سے درست نہیں۔
4- اگر لوگوں کو پرکھنے کا معیار تقویٰ کی بجائے مال و دولت ہو ، تو یہ بھی دنیا کی غلامی کا مظہر ہے ۔ آج کے دور میں حتیٰ کہ علماء کو بھی اس معیار پر پرکھا جاتا ہے ، اور ایسے افراد کو ترجیح دی جاتی ہے جو علم میں کمزور ہوں مگر aesthetics میں اچھے ہوں۔ ان کا سٹوڈیو ہو ، کیمرہ اچھا ہو ۔ دوسری جانب اگر کوئی پختہ عالم ہے لیکن غریب ہÛ