قرآن اور اہلِ قرآن کی فضیلت

کسی چیز کی فضیلت جاننے کی اہمیت:

انسان کی فطرت ہے کہ وہ کسی چیز کی فضیلت کو سن کر اس پر عمل کرنے کی طرف راغب ہوتا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے، چنانچہ اس میں ڈرانے کے ساتھ ساتھ بشارت بھی ہے۔ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر نبی ﷺ کے لئے بشیر کا وصف نذیر پر مقدم ہے۔

فضائل جاننے کے دو فوائد:

1. جو قرآن مجید کے حقوق ادا کر رہا ہے تو وہ پہلے سے زیادہ عزم و استقلال کے ساتھ انجام دے گا۔

2. جو شخص قرآن کے معاملے میں کوتاہی کا شکار ہے تو اس کے اندر ان فضائل کو حاصل کرنے کا جذبہ بیدار ہو گا۔

علماء کی سنت:

علماء ابتداء سے لے کر آج تک اس موضوع پر لکھتے آ رہے ہیں۔ کتب حدیث میں اس پر مستقل ابواب موجود ہیں۔ کبار ائمہ نے اس موضوع پر مستقل کتب بھی لکھی ہیں۔ مثلا امام ابوعبید قاسم بن سلام، امام نسائی، امام ابن کثیر، ضياء المقدسي، شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب، وغیرھم رحمهم الله۔

ان کتب میں فقط فضائل بیان نہیں ہوئے بلکہ سلف کے قران مجید سے تعلق، قرآن مجید سے غفلت اور دیگر چیزوں کا بیان بھی موجود ہے۔ ان کتب میں عموماً صحیح اور ضعیف احادیث کا فرق نہیں رکھا گیا۔ مصر کے ایک عالم دین محمد بن رزق الطرھونی حفظه الله نے فضائل القران کے شاندار موضوع پر “موسوعة فضائل سور وآيات القرآن – القسم الصحيح” میں صحیح احادیث جمع کی ہیں۔

قرآن مجید کے فضائل:

1. یہ اللہ عزوجل کا کلام ہےاور یہی بات اس کی فضیلت بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔

2. یہ ایسی مبارک کتاب ہے کہ باطل اس کے قریب نہیں پھٹک سکتا۔ سابقہ کتب بھی اللہ کا کلام تھیں مگر اس کی حفاظت کا خاص ذمہ اللہ عزوجل نے لیا ہے، کہ باطل آگے پیچھے سے اس کے قریب نہیں پھٹک سکتا۔

3. تمام شرعی علوم اللہ عزوجل نے اس کتاب میں بیان کر دئیے ہیں۔ اللہ عزوجل کے فرمان: مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ (ہم نے کتاب میں کوئی کسر نہیں چھوڑی) (سورہ انعام 38) کی تفسیر میں ابن جریر رحمہ اللہ نے ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے: ہم نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کی اصل قرآن میں بیان نہ کر دی ہو۔

4. اللہ عزوجل نے اہل عرب کو چیلنج کیا کہ اس جیسا کلام لا کر دکھاؤ حالانکہ وہ تمام دنیا میں سب سے زیادہ فصیح و بلیغ تھے۔ مگر خالق اور مخلوق کے کلام درمیان وہی فرق ہے جو خالق مخلوق میں ہے۔

5. اللہ عزوجل نے اس میں ایسی تاثیر رکھی ہے کہ جنوں نے سن کر کہا کہ قرآناً عجباً۔ کوئی بھی کتاب بار بار پڑھ کر طبیعت پر بوجھل ہو جاتی ہے مگر قرآن مجید کبھی پرانا نہیں ہوتا، اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے۔ بلکہ اسے جتنا پڑھیں اتنا ہی اس کو پڑھنے کا شوق بڑھتا ہے۔

6. یہ کسی خاص طبقے اور خاص زمانے کے لئے نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لئے کتاب ہدایت ہے۔ ساڑھے چودہ سو سال سے فقہاء علماء محدثین پڑھتے آ رہے ہیں مگر اس کا اعجاز نہیں ختم ہوتا اور نہ ہی ہو گا۔

7. ابن عباسؓ فرماتے ہیں: جب قرآن نازل کیا گیا تو مخلوق اس کو پڑھنے کی طاقت نہ رکھتی تھی۔ پھر اس کو آسان کیا گیا۔ چنانچہ اللہ عزوجل کے فرمان: وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ (اور بے شک ہم نے قرآن مجید آسان بنا دیا ہے) (سورہ القمر 17) کا یہی مفہوم ہے۔

8. عمومی قاعدہ ہے کہ بادشاہ کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہوتا ہے۔ اللہ عزوجل تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ امام ابوعبدالرحمن السلمی فرماتے ہیں: قرآن مجید کی کلاموں پر وہی فضیلت ہے جو اللہ کی مخلوق پر۔ عکرمہ بن ابی جہلؓ مصحف پکڑتے بوسہ دیتے اور روتے کہ یہ میرے رب کا کلام ہے۔ عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے: بے شک یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے جو اس پر آ گیا وہ امن میں آ گیا۔

9. حدیث میں آتا ہے: “جس نے قرآن مجید کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملے گی اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہوتی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ «الم» ایک حرف ہے، بلکہ «الف» ایک حرف ہے «لام» ایک حرف ہے اور «ميم» ایک حرف ہے۔”

امام قرطبى اپنی تفسیر کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: “جب اللہ نے اس کو تمام علوم کو جمع کرنے والا بنا دیا ہے اور آسمانوں کے امین کے ذریعے زمین کے امین پر اتارا تو میں نے پختہ عزم کیا کہ پوری محنت اس کی تفسیر میں لگا دوں گا۔”

10. امام نووی التبیان میں فرماتے ہیں: “جان لو کہ صحیح ترین مذہب علماء نے یہ اختیار کیا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت عمومی تسبیح و تہلیل اور دیگر اذکار سے افضل ہے۔”

اہل قرآن کی فضیلت:

1. ابن الجزری رحمہ اللہ “نشر” کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں: “انسان اپنی معلومات کے ذریعے ہی شرف پاتا ہے اور اسے مق